
ڈونبگ، آئرلینڈ، 14 ستمبر 2026 (غفران): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی پر زور دیا ہے کہ وہ روس کے ڈیزل ایندھن کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بند کریں، ان کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں کے باعث ایندھن کی قلت پیدا ہو رہی ہے اور ’’دنیا متاثر ہو رہی ہے‘‘۔ حالیہ مہینوں میں یوکرین کی جانب سے روسی آئل ریفائنریوں پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں کی ایک لہر کے نتیجے میں ایندھن کی پیداوار میں کمی اور روس بھر میں پٹرول کی قلت پیدا ہوئی ہے۔ یوکرین، جسے خود بھی روس کی جانب سے اپنے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مسلسل حملوں کا سامنا ہے، کا مؤقف ہے کہ آئل ریفائنریاں جائز فوجی اہداف ہیں۔ مغربی آئرلینڈ میں آئرش اوپن کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ زیلنسکی کو ڈیزل ایندھن کی تنصیبات پر حملے روک دینے چاہئیں اور اس کے بجائے یوکرین دیگر اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قیمتوں کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے گیس بڈی کے مطابق امریکا میں ڈیزل کی اوسط قیمت پہلی مرتبہ 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے عالمی ایندھن کی فراہمی میں خلل کے اثرات پر تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔