Thursday, October 1

مغربی کنارے میں آبادکاروں کے بڑھتے تشدد کے درمیان امریکی سفیر کی فلسطینی نژاد امریکیوں سے ملاقات

US ambassador meets Palestinian Americans amid rising settler violence in West Bank

ترمس عیا، مغربی کنارہ، 6 ستمبر، 2026 (نوشین) – اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ہفتے کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینی قصبے ترمس عیا میں فلسطینی نژاد امریکی شہریوں سے ملاقات کی، جن میں اسرائیلی آبادکاروں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے امریکی شہریوں کے لواحقین بھی شامل تھے۔ یہ ملاقات مغربی کنارے میں آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور اسرائیل پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے عالمی سطح پر بڑھتے مطالبات کے درمیان ہوئی۔ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں پر امریکہ کے اتحادیوں سمیت عالمی برادری کی جانب سے بھی شدید مذمت سامنے آئی ہے، جبکہ اسرائیلی حکام کو حملہ آوروں کے خلاف محدود کارروائی پر تنقید کا سامنا ہے۔ ہکابی نے ملاقات کو تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت کے مفاد میں ہے کہ ’’مجرمانہ رویے اور دہشت گردی‘‘ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے۔ انہوں نے حملہ آوروں کو چند سو افراد پر مشتمل ’’ایک چھوٹا گروہ‘‘ قرار دیا جو اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ترمس عیا کے میئر نواف زغل نے کہا کہ قصبے کے فلسطینی باشندوں کو آبادکاروں کے مسلسل حملوں کا سامنا ہے اور تقریباً 80 فیصد رہائشی امریکی شہریت رکھتے ہیں۔ بپٹسٹ پادری اور اسرائیلی بستیوں کے دیرینہ حامی ہکابی اس سے قبل بھی پرتشدد آبادکاروں کے خلاف مقدمات چلانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سفارتخانے کے پاس براہ راست مداخلت کا اختیار نہیں، تاہم وہ امریکی حکومت پر اثر انداز ہونے اور ایسے معاملات کی جانب توجہ مبذول کرانے کی کوشش کر سکتا ہے جنہیں درست کرنے کی ضرورت ہے۔ فلسطینی نژاد امریکی اور بلدیہ کے ترجمان یاسر القم نے ہکابی کے اس مؤقف سے اختلاف کیا کہ تشدد میں صرف چند سو آبادکار ملوث ہیں۔ ان کے مطابق فلسطینیوں کے خلاف تشدد کرنے والے افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ ان آبادکاروں کو گرفتار کیا جائے جن کی شناخت حکام کے پاس موجود ہے۔ ہکابی سے ملاقات کرنے والوں میں ہدیل جبارہ بھی شامل تھیں، جو دو کم عمر بچوں کی فلسطینی نژاد امریکی ماں ہیں۔ ان کے شوہر عمر، جو امریکی شہری تھے، 2023 میں آبادکاروں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ امریکی حکومت رہائشیوں کے تحفظ میں مدد کر سکتی ہے، جبکہ انہوں نے اپنے بچوں کی سلامتی کے حوالے سے خوف کا اظہار بھی کیا۔ 2024 سے اب تک مغربی کنارے میں کم از کم چھ فلسطینی نژاد امریکی شہری اسرائیلی فوج یا آبادکاروں کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ ملاقات مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر جاری پابندیوں اور اسرائیل کی موجودہ حکومت کے دور میں آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش کے درمیان ہوئی۔