
تہران، 2 اگست 2026 (نوشین): ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی مجتبیٰ خامنہ ای کے سینئر مشیر محمد مخبر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے بنیادی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے نتائج صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ امریکی حاکمانہ نظام اور مغربی عالمی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔ اپنے بیان میں محمد مخبر نے کہا کہ امریکا معاملات کا جائزہ فوجی طاقت کے توازن کی بنیاد پر لیتا ہے، جبکہ ایران تاریخ کی منطق اور طویل المدتی حقائق کے مطابق ردعمل دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران کے بنیادی انفرااسٹرکچر پر حملے کیے گئے تو ان کے اثرات میدانِ جنگ سے باہر بھی محسوس کیے جائیں گے اور مغربی طاقتوں کی جانب سے گزشتہ ڈھائی سو برس کے دوران قائم کیا گیا عالمی نظام تباہ ہو جائے گا۔
محمد مخبر کے مطابق جب اس نظام کے بنیادی ستون گر جائیں گے تو نہ قیادت کے لیے کوئی مؤثر کمانڈ سینٹر باقی رہے گا اور نہ ہی استحصال اور وسائل کی لوٹ مار کے لیے کوئی عالمی منڈی موجود ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور بنیادی تنصیبات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی حملے کا مناسب جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ محمد مخبر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتحال اور ایران سے متعلق بین الاقوامی کشیدگی پر عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔