Monday, October 19

ماجا چوالنسکا کی شاندار واپسی، ووہان اوپن کا پہلا ڈبلیو ٹی اے ٹور ٹائٹل جیت لیا

Chwalinska Stages Comeback to Win Wuhan Open for First WTA Tour-Level Title

ووہان، 19 اکتوبر 2026 (غفران): پولینڈ کی ماجا چوالنسکا نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے برطانیہ کی سونے کارٹل کو 2-6، 6-4 اور 6-2 سے شکست دے کر اتوار کو ووہان اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ یہ ان کے کیریئر کا پہلا ڈبلیو ٹی اے ٹور سطح کا ٹائٹل ہے۔ ٹورنامنٹ میں 16ویں سیڈ چوالنسکا نے ایک سیٹ اور ایک بریک کے خسارے سے واپسی کرتے ہوئے تاریخ رقم کی اور ڈبلیو ٹی اے 1000 ایونٹ میں اپنے کیریئر کا پہلا ٹور سطح کا ٹائٹل جیتنے والی چوتھی کھلاڑی بن گئیں۔ اس سے قبل نومی اوساکا، بیانکا اینڈریسکو اور وکٹوریہ مبوکو بھی یہ اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔ چوالنسکا نے سال کا آغاز عالمی درجہ بندی میں 146ویں پوزیشن سے کیا تھا، جبکہ جون میں کوالیفائر کے طور پر فرنچ اوپن کے فائنل تک پہنچ کر بھی سب کو حیران کر دیا تھا۔ ووہان اوپن میں کامیابی کے بعد ان کی عالمی درجہ بندی میں کیریئر کی بہترین 11ویں پوزیشن پر پہنچنے کی توقع ہے، جس کے ساتھ وہ پہلی مرتبہ ٹاپ 20 کھلاڑیوں میں شامل ہوں گی۔ میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے چوالنسکا نے کہا کہ فرنچ اوپن کے بعد انہیں کچھ مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے محنت جاری رکھی اور اب ان کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں۔ فائنل کے پہلے سیٹ میں کارٹل نے طاقتور شاٹس کے ذریعے کھیل پر غلبہ برقرار رکھا، لیکن دوسرے سیٹ میں چوالنسکا نے طویل ریلیز کھیل کر، ہر گیند تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہوئے اور زیادہ جارحانہ انداز اپناتے ہوئے مقابلہ برابر کر دیا۔ کارٹل نے دوسرے سیٹ کے آغاز میں 2-0 کی برتری حاصل کی اور 13 میں سے 10 بریک پوائنٹس بچائے، تاہم وہ چوالنسکا کو سیٹ جیتنے سے نہ روک سکیں۔ فیصلہ کن سیٹ میں چوالنسکا نے دو مرتبہ کارٹل کی سروس توڑتے ہوئے دو گھنٹے 43 منٹ کے سخت مقابلے کے بعد اپنے تیسرے چیمپئن شپ پوائنٹ پر ٹرافی جیت لی۔ کارٹل ریڑھ کی ہڈی میں اسٹریس فریکچر کے باعث چھ ماہ تک کھیل سے دور رہنے کے بعد اپنا دوسرا ٹورنامنٹ کھیل رہی تھیں۔ وہ ووہان اوپن میں عالمی درجہ بندی میں 170ویں نمبر پر تھیں، تاہم فائنل تک رسائی کے بعد ان کی ٹاپ 50 میں واپسی متوقع ہے۔ شکست کے باوجود کارٹل نے اپنی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ووہان میں ان کی اچھی پیش رفت کے مثبت پہلو اس نتیجے سے زیادہ اہم ہیں۔