اسلام آباد، 31 جولائی 2026(کامران راجہ): لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن اور وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری کی قیادت میں گزشتہ دو برس کے دوران نمایاں مالی اور انتظامی بہتری حاصل کرتے ہوئے بجلی کے شعبے میں اصلاحات کی ایک اہم مثال قائم کی ہے۔ لیسکو نے مالی خسارہ دو برس کے دوران 79 ارب روپے سے کم کر کے تقریباً 21 ارب روپے تک محدود کر دیا، جس سے قومی خزانے کو 58 ارب روپے سے زائد کی مالی بہتری حاصل ہوئی۔ اسی عرصے میں لیسکو نے ریکوری کے شعبے میں بھی تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی مرتبہ 101.05 فیصد ریکوری ریکارڈ کی، جو نیپرا کے مقررہ ہدف سے بھی زیادہ ہے۔ کمپنی کے لائن لاسز بھی نمایاں طور پر کم ہوئے ہیں۔ دو برس قبل 15.8 فیصد لائن لاسز کم ہو کر 11.86 فیصد رہ گئے، یعنی تقریباً چار فیصد کمی، جو ملکی تاریخ میں کسی بھی ڈسٹری بیوشن کمپنی (ڈسکو) کی جانب سے حاصل کی جانے والی سب سے بڑی بہتری تصور کی جا رہی ہے۔ تقریباً 1000 ارب روپے سے زائد سالانہ آمدن رکھنے والی لیسکو میں لائن لاسز کا ہر ایک فیصد کم ہونا تقریباً 10 ارب روپے کی مالی بہتری کے برابر ہے۔
لیسکو کی یہ کامیابی پیشہ ورانہ بورڈ آف ڈائریکٹرز، جدید انتظامی نظام، مؤثر نگرانی، انتظامی خودمختاری، بلنگ اور ریکوری نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، بجلی چوری کے خلاف مؤثر اقدامات اور مسلسل مانیٹرنگ کا نتیجہ ہے۔وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے اس موقع پر کہا کہ مسلسل نگرانی، اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی اور مؤثر احتساب سے نمایاں نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام ڈسکوز کی کارکردگی، لائن لاسز اور ریکوری کی مسلسل نگرانی سے بجلی کے شعبے میں مجموعی بہتری آ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بااختیار انتظامیہ، مؤثر گورننس اور غیر سیاسی انتظامی نظام بجلی کے شعبے کی مالی حالت بہتر بنانے کی بنیاد ہیں۔ لیسکو کے نتائج اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے گردشی قرضے کے بوجھ میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ لیسکو کی کامیابی بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات کی کامیابی اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے ایک قابلِ عمل ماڈل ہے۔ حکومت اس اصلاحاتی ماڈل کو دیگر ڈسکوز میں بھی نافذ کرے گی تاکہ پورے بجلی کے شعبے کی کارکردگی، مالی استحکام اور عوامی خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
