
وینس، 13 ستمبر 2026 (کامران راجہ): غزہ میں اسرائیل کی مصنوعی ذہانت سے معاونت یافتہ فوجی کارروائیوں اور شہریوں کی ہلاکتوں پر مبنی نئی دستاویزی فلم ’نازا‘ نے وینس فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری ایوارڈ جیت لیا۔ 80 منٹ دورانیے کی اس دستاویزی فلم کی ہدایت کاری آسکر ایوارڈ یافتہ اسرائیلی فلم سازوں یوفال ابراہام اور ریچل سور نے کی ہے۔ فلم کو جمعرات کو نمائش کے بعد 25 منٹ تک جاری رہنے والی زبردست داد و تحسین کے باعث بعض ناقدین نے فیسٹیول کے اعلیٰ ترین گولڈن لائن ایوارڈ کے لیے بھی مضبوط امیدوار قرار دیا تھا۔ گولڈن لائن ایوارڈ ڈنمارک کی فلم ساز مے التوکھی کی جنگ کے بعد کے حالات پر مبنی فلم ’وومن اَن نون‘ کو دیا گیا، جبکہ اس فلم کی اداکارہ میتھلڈ آرسیل نے بہترین اداکارہ کا ایوارڈ حاصل کیا۔ خصوصی جیوری ایوارڈ وصول کرتے ہوئے یوفال ابراہام نے کہا کہ فیسٹیول شروع ہونے کے بعد 10 دن کے دوران اسرائیل نے غزہ میں چھ فلسطینی بچوں کو قتل کیا۔ انہوں نے کہا کہ دستاویزی فلم کے لیے انٹرویو دینے والے اسرائیلی انٹیلی جنس اہلکاروں نے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کو منظم اور منصوبہ بندی کے تحت ہونے والی کارروائی قرار دیا اور فلسطینیوں کی غیر انسانی حیثیت کے تصور پر مبنی پالیسیوں کی نشاندہی کی۔ ابراہام اور سور نے یہ فلم 24 اسرائیلی فوجی اور انٹیلی جنس اداروں سے وابستہ ایسے افراد کے انٹرویوز کی بنیاد پر تیار کی جنہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی۔ ان افراد نے اسرائیل کے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ہدف بنانے کے نظام کے استعمال کے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے بعض کارروائیوں کو ’قتل کی فیکٹری‘ اور ایک جان لیوا ویڈیو گیم سے تشبیہ دی۔ فلم کو ناقدین کی جانب سے بھی بھرپور ردعمل ملا ہے، جبکہ ابراہام نے کہا کہ ان کے لیے یہ خاص طور پر اہم ہے کہ اسرائیلی شہری اس فلم کو دیکھیں کیونکہ یہ ان کے اپنے ملک کی جانب سے کیے جانے والے مبینہ جرائم سے متعلق ہے۔