Friday, October 23

صدر زرداری کا لاہور میں سعودی پاکستان رئیل اسٹیٹ ایکسپو کا دورہ

President Zardari Visits Saudi-Pakistan Real Estate Expo in Lahore

لاہور، 23 اکتوبر 2026 (غفران): صدر مملکت آصف علی زرداری نے جمعرات کو لاہور میں سعودی پاکستان رئیل اسٹیٹ ایکسپو (ایس پی آر ای ایکس) کا دورہ کیا اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ آمد پر صدر مملکت کا استقبال گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان اور سعودی پاکستان بزنس کونسل کے رکن ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کیا۔ دورے کے دوران صدر کو نمائش میں شریک کمپنیوں، ان کے منصوبوں اور پاکستان کے رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ نمائش میں سعودی عرب کی نمایاں رئیل اسٹیٹ اور سرمایہ کاری کمپنیوں کے پویلین شامل ہیں، جبکہ سعودی پاکستان بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد آل سعود اور وائس چیئرمین عبدالعزیز الاشرفی بھی شریک ہیں۔ سعودی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کے ممکنہ مواقع کا جائزہ لے رہی ہیں، جبکہ سعودی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور سرحد پار سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اپنے منصوبے بھی پیش کر رہی ہیں۔ اس موقع پر صدر آصف علی زرداری نے پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری، زیادہ سرمایہ کاری اور باہمی مفاد کے کاروباری مواقع میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی اور تزویراتی شراکت داری کا مظہر ہے۔ صدر مملکت نے پاکستانی اور سعودی کاروباری برادریوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے منتظمین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیاں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے، نجی شعبے کے درمیان تعاون بڑھانے اور طویل المدتی اقتصادی شراکت داری قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی کاروباری اور سرمایہ کاری گروپوں کی شرکت باہمی تعاون، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔ صدر نے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی سہولت کے لیے سازگار اور سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے فضائی عملے کی نئی وردیاں بھی نمائش کے لیے پیش کی گئیں۔