Tuesday, October 20

شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں اسحاق ڈار کا افغانستان سے دہشت گردی پر تحفظات کا اظہار، علاقائی اقتصادی تعاون بڑھانے پر زور

Dar Raises Afghanistan Terrorism Concerns, Calls for Greater Economic Integration at SCO Summit

دوشنبے، 20 اکتوبر 2026 (غفران): نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ علاقائی اقتصادی انضمام کو مضبوط بنائیں، سرحد پار لین دین میں قومی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دیں اور عالمی اقتصادی بحرانوں کے اثرات سے خطے کو محفوظ رکھنے کے لیے نئے مالیاتی ادارے قائم کریں۔ منگل کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے علاقائی روابط کے فروغ، سرمایہ کاری میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ایس سی او ترقیاتی بینک، ایس سی او ترقیاتی فنڈ اور ایس سی او سرمایہ کاری فنڈ کے قیام کے لیے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے ترقیاتی منصوبوں کی معاونت اور عالمی مالیاتی بحرانوں کے مقابلے میں خطے کی صلاحیت بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا خطہ عالمی اقتصادی ترقی کا ایک اہم مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے علاقائی اقتصادی انضمام کے فروغ میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رکن ممالک کے درمیان روابط بہتر بنانے اور اقتصادی تعلقات مضبوط کرنے کے لیے بالخصوص توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔ تحفظ پسندانہ پالیسیوں اور یکطرفہ دباؤ پر مبنی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے عالمی مالیاتی نظام اور تجارتی ڈھانچے میں اصلاحات کا مطالبہ کیا تاکہ منصفانہ اور پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان زراعت، کان کنی، معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی حمایت کرتا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تبدیلی، جدت، توانائی کے شعبے میں تعاون اور بین الاقوامی معلوماتی سلامتی کو مستقبل کے اہم شعبے قرار دیا۔ انہوں نے 2027 میں پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی ایس سی او سربراہی کانفرنس کی ترجیحات بھی بیان کیں، جن میں امن و سلامتی، باہمی اعتماد، علاقائی روابط، تجارت، جدت، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت، پائیدار توانائی اور عوامی روابط شامل ہیں۔ اسحاق ڈار نے تنظیم میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے ایس سی او کے علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے اور غربت کے خاتمے سے متعلق ورکنگ گروپ کی سربراہی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان غربت میں کمی کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے کردار کو فروغ دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ علاقائی سلامتی کے حوالے سے اسحاق ڈار نے افغانستان سے پاکستان میں سرحد پار دہشت گردی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے دیرپا امن و سلامتی ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کو ایک پُرامن، مستحکم، خوشحال اور علاقائی طور پر مربوط ملک دیکھنا چاہتا ہے، جو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعمیری تعلقات قائم رکھے۔ انہوں نے ایک بار پھر اس توقع کا اظہار کیا کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان بارہا افغان طالبان حکام پر زور دے چکا ہے کہ وہ افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کریں، خصوصاً کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک عناصر کے خلاف۔ اسحاق ڈار نے علاقائی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد کے طور پر پُرامن اور مستحکم ہمسائیگی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس سے قبل اسحاق ڈار نے تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے دیگر وفود کے سربراہان کے ہمراہ ملاقات کی، جبکہ تاجک وزیراعظم قاہر رسول زادہ نے اجلاس میں شریک رہنماؤں کا خیرمقدم کیا۔ اسحاق ڈار نے اجلاس کے موقع پر تاجک وزیراعظم قاہر رسول زادہ، چین کے وزیراعظم لی چیانگ اور منگولیا کے پہلے نائب وزیراعظم جادامبین اینخبیار سے بھی ملاقاتیں کیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے دس رکن ممالک پاکستان، چین، بھارت، ایران، روس، کرغزستان، بیلاروس، قازقستان، تاجکستان اور ازبکستان ہیں، جبکہ افغانستان اور منگولیا مبصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان نے اکتوبر 2024 میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس کی میزبانی کی تھی، جبکہ تنظیم کی صدارت سنبھالنے کے بعد 2027 میں ایس سی او سربراہی کانفرنس کی میزبانی بھی کرے گا۔