
لیڈز، 21 اگست 2026 (نوشین) — پاکستان کے قائم مقام کپتان سلمان علی آغا نے انگلینڈ کے خلاف ہیڈنگلے میں پہلے ٹیسٹ میں بھاری شکست کے بعد بابر اعظم کی واپسی کو ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ انگلینڈ نے جمعہ کو پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دے کر سیریز کے پہلے میچ میں برتری حاصل کرلی۔ پاکستان کی بیٹنگ دونوں اننگز میں ناکام رہی اور ٹیم پہلی اننگز میں 171 جبکہ دوسری اننگز میں 135 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔ انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 409 رنز بنائے، جبکہ اولی رابنسن کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا، جنہوں نے میچ میں مجموعی طور پر 8 وکٹیں حاصل کیں۔میچ کے بعد پریزنٹیشن تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان علی آغا نے تسلیم کیا کہ انگلینڈ کی ٹیم بہتر ثابت ہوئی اور پاکستان کو شکست کی وجوہات بننے والی غلطیوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، ’’انگلینڈ نے ہمیں ہر شعبے میں آؤٹ کلاس کیا اور یہ کہنا درست ہے۔ ہم نے بہت سی غلطیاں کیں۔ ہماری بیٹنگ ان حالات میں ناتجربہ کار ہے، تاہم بلے بازوں کو مستقل مزاجی دکھانا ہوگی۔‘‘ سلمان نے ہیڈنگلے کے ابر آلود موسم اور سازگار حالات سے بھرپور فائدہ نہ اٹھانے کے باوجود پاکستان کے فاسٹ باؤلرز کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان باؤلرز نے ویسٹ انڈیز میں اچھی کارکردگی دکھائی تھی اور وہ تقریباً 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’جب ہم نے باؤلنگ کی تو نمی موجود تھی لیکن ہمارے باؤلرز اس سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ ہمارے پاس ایسے باؤلرز ہیں جو 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرسکتے ہیں، جبکہ ان تینوں فاسٹ باؤلرز نے ویسٹ انڈیز میں اچھی کارکردگی دکھائی تھی اور یہ حالات بھی ان کے لیے موزوں ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’مجھے اب بھی ان پر اعتماد ہے۔ ہمیں اپنی غلطیوں کو ختم کرکے اگلے میچ میں زیادہ مضبوط انداز میں واپس آنا ہوگا۔‘‘سلمان علی آغا نے مشکل حالات میں باؤلنگ کرنے پر علی عثمان اور بیٹنگ میں عبداللہ شفیق کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا، ’’میں علی عثمان کے لیے بہت خوش ہوں کہ انہوں نے ان حالات میں جس طرح باؤلنگ کی۔ اسی طرح عبداللہ شفیق کی بیٹنگ پر بھی بہت خوش ہوں۔‘‘ پاکستانی کپتان نے بابر اعظم کی ٹیم میں واپسی سے بیٹنگ لائن اپ مضبوط ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’امید ہے کہ بابر اگلے میچ میں واپس آئیں گے اور ان کی موجودگی ہماری بیٹنگ کو تقویت دے گی۔‘‘