Saturday, October 17

سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں ایران کی سرپرستی سے انکار، مملکت کی مزید میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنانے کی اطلاع

Iran Denies Backing Houthi Attacks on Saudi Arabia as Kingdom Intercepts Missiles and Drones

ریاض، 17 اکتوبر 2026 (نوشین): ایران نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر کیے جانے والے حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے ریاض کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ تہران نے حالیہ کشیدگی میں اضافے کی حوصلہ افزائی کی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کا حوثیوں کی کارروائیوں سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ یمن کی مسلح افواج اپنے مفادات اور جائزوں کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔ انہوں نے ان الزامات کو ناقابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں مزید اضافہ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔ اسماعیل بقائی نے دونوں فریقوں کے درمیان لڑائی ختم کرانے کے لیے سفارتی کوششوں اور ثالثی میں مدد دینے کی ایران کی پیشکش کا بھی اعادہ کیا۔ ایران کا یہ بیان سعودی حکام کی جانب سے تہران پر حوثیوں کو حملوں میں شدت لانے کی ترغیب دینے کے الزام کے ایک روز بعد سامنے آیا۔ دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان نے بتایا کہ اتحادی افواج نے جنوبی سعودی عرب اور ریاض کے قریب تین ڈرونز جبکہ بحیرہ احمر کے اوپر دو کروز میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا۔ اتحاد کے مطابق بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع کے اوپر ایک بیلسٹک میزائل کو بھی ناکام بنایا گیا۔ ینبع ایک اہم تیل پائپ لائن کا آخری مقام ہے۔ یمن میں ستمبر کے دوران حوثی گروپ کی کارروائیوں اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں اہم مقامات پر قبضے کے بعد سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد ایک دہائی سے زائد عرصے سے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کر رہا ہے۔ تازہ حملوں کے باعث دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کرنے والے ملک سعودی عرب پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جبکہ فروری میں وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے آغاز پر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد عالمی توانائی کی منڈیوں میں پہلے ہی بے چینی پائی جاتی ہے۔