
ریاض، 09 اگست 2026 (غفران): سعودی عرب اور یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے متحدہ عرب امارات کی سرکاری توانائی کمپنی کے زیرِ انتظام آئل ٹینکر پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔دونوں ممالک نے بحرین، اردن، قطر اور شام کے ساتھ مل کر اس واقعے کی مذمت کی ہے، جس کا الزام متحدہ عرب امارات نے ایران پر عائد کیا ہے۔ اماراتی حکام کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں حملے کو بحری سلامتی اور محفوظ جہاز رانی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے واقعات عالمی توانائی کی فراہمی کے تحفظ کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیںسعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت ایران کو اس کی مسلسل جارحانہ کارروائیوں کے نتائج کا ذمہ دار قرار دیتی ہے اور تہران سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ایسی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرے۔
دریں اثناء یمن کی وزارت خارجہ نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بحری آمدورفت اور تجارتی جہازوں کی سلامتی و تحفظ کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔یمنی وزارت خارجہ نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے والے ایسے حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا اور تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں۔یہ تازہ مذمتیں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارتی بحری آمدورفت اور عالمی توانائی کی فراہمی کے تحفظ کے حوالے سے بھی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔