
تہران، 19 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد اپنے پہلے دورے پر پیر کے روز تہران پہنچ گئے، جہاں ان کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقاتیں طے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سرگئی لاوروف اتوار کو بحرین میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد تہران روانہ ہوئے۔ ان کے دورے کا مقصد دوطرفہ تعلقات، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ مذاکرات میں علاقائی اور عالمی پیش رفت کے علاوہ ماسکو اور تہران کے درمیان طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد کے امور بھی زیر بحث آئیں گے۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک تجارت، توانائی، سرمایہ کاری اور نقل و حمل کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر بھی بات چیت کریں گے۔ اس ماہ کے آغاز میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ماسکو جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ سرگئی لاوروف کے دورے کو خطے میں روس کے سفارتی کردار کو مضبوط بنانے اور کشیدگی میں کمی لانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کے حوالے سے تاحال کسی فوری پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ بحرین میں اتوار کو ہونے والی ملاقات کے دوران خلیجی ممالک نے روس پر زور دیا کہ وہ ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے خطے میں حملے رکوانے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنانے میں مدد کرے۔ تہران میں ہونے والے مذاکرات میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطوں اور علاقائی سلامتی کے امور پر توجہ دیے جانے کا امکان ہے۔