
جنیوا، 19 اگست 2026 (کامران راجہ) — اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ 2025 میں ریکارڈ 907 امدادی کارکن ہلاک، زخمی یا اغوا ہوئے، جو بڑھتے ہوئے تنازعات اور مسلح ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث امدادی کارکنوں کو درپیش خطرات میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ ایڈ ورکر سیکیورٹی ڈیٹا بیس کے مطابق، جو امدادی کارکنوں سے متعلق بڑے سیکیورٹی واقعات کا ریکارڈ مرتب کرتا ہے، 2025 میں 907 امدادی کارکنوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 833 تھی۔ ان میں سے 350 امدادی کارکن ہلاک ہوئے، جو 2024 میں ریکارڈ کیے گئے 387 ہلاکتوں کے مقابلے میں معمولی کمی ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امدادی کارکنوں کے خلاف تشدد کی سطح کو ’’انتہائی تشویشناک‘‘ قرار دیتے ہوئے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کریں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔گوتریس نے عالمی یومِ انسانی امداد کے موقع پر نیویارک اور جنیوا میں ہونے والی تقریبات سے قبل کہا کہ دوسروں کی خدمت کرنا پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہو گیا ہے۔ ان تقریبات میں جان کی بازی ہارنے والے امدادی کارکنوں کے احترام میں پرچم سرنگوں کیے جائیں گے۔
اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا کہ سستے اور آسانی سے استعمال ہونے والے مسلح ڈرونز کی بڑھتی ہوئی دستیابی نے تنازعات والے علاقوں میں کام کرنے والے امدادی کارکنوں کے خطرات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ مارچ میں مشرقی جمہوری جمہوریہ کانگو کے شہر گوما میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک فرانسیسی امدادی کارکن بھی شامل تھا۔ سوڈان اور یوکرین میں امدادی قافلے بھی متعدد مرتبہ حملوں کی زد میں آ چکے ہیں۔ڈیٹا بیس کے مطابق 2025 میں غزہ امدادی کارکنوں کے لیے سب سے زیادہ ہلاکت خیز مقام رہا، جہاں 186 امدادی کارکن مارے گئے، جبکہ سوڈان دوسرے نمبر پر رہا۔اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے)، کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل-غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس کے کم از کم 393 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔اسرائیل، جو غزہ میں حماس کے خلاف کارروائی کر رہا ہے، کا کہنا ہے کہ وہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرتا ہے۔ انروا کے سابق سربراہ فلپ لازارینی نے رواں سال کے آغاز میں کہا تھا کہ وہ ادارے کے عملے کی ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی پینل کے قیام کی کوشش کر رہے ہیں۔ آکسفیم کی عالمی انسانی امدادی پالیسی کی سربراہ بشریٰ خلیلی نے امدادی کارکنوں کے لیے مزید مؤثر تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ بڑھتا ہوا تشدد خود انسانی امدادی سرگرمیوں پر حملے کے مترادف ہے۔