
اسلام آباد، 7 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): سکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی متعدد کارروائیوں کے دوران 18 بھارت نواز دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں فتنۃ الخوارج کے خلاف عزمِ استحکام کے وژن کے تحت جبکہ بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان اور ملحقہ علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جہاں 13 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب مستونگ میں فتنۃ الہندوستان کے خلاف ایک علیحدہ کارروائی کے دوران 5 دہشت گرد مارے گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیوں کے دوران ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ کارروائیوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں کلیئرنس آپریشن بھی کیا تاکہ باقی ماندہ دہشت گردوں کا خاتمہ یقینی بنایا جاسکے۔ پاکستان میں 2021 میں افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرحد پار سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں ملک بھر میں 225 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ اگست میں یہ تعداد 199 تھی، یوں حملوں میں 13 فیصد اضافہ ہوا اور مسلسل تیسرے ماہ دہشت گرد حملوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان نے متعدد بار کابل پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے پاکستان کے اندر حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان حکام پاکستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں میں ملوث گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ متعدد مذاکراتی ادوار کے باوجود پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات حل نہیں ہوسکے، جبکہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں دونوں ممالک کے درمیان بدستور ایک اہم تنازع بنی ہوئی ہیں۔