
اگست02 ,2026 (نوشین): بیلجیئم میں جون کے آخر میں آنے والی شدید گرمی کی لہر (ہیٹ ویو) کے دوران یورپ میں سب سے زیادہ اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔ یہ انکشاف بیلجیئن میڈیا کی ان رپورٹس میں کیا گیا ہے جو یورپی شرحِ اموات کی نگرانی کرنے والے نیٹ ورک یورو مومو کے اعداد و شمار پر مبنی ہیں۔ یورو مومو 20 سے زائد یورپی ممالک میں شرحِ اموات کا موازنہ اور نگرانی کرتا ہے تاکہ غیر معمولی اموات میں اضافے کی نشاندہی کی جا سکے اور شدید موسمی حالات جیسے واقعات کے عوامی صحت پر اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔
بیلجیئم کے قومی ادارۂ صحت سائنسانو کے مطابق شدید گرمی کی اس لہر کے دوران ملک میں معمول کے مقابلے میں 2 ہزار سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔ بیلجیئم میں اضافی شرحِ اموات 48 فیصد رہی، جو فرانس میں 23 فیصد اور نیدرلینڈز میں 13 فیصد اضافی شرحِ اموات کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ تھی، حالانکہ ان ممالک میں بھی درجہ حرارت تقریباً اسی سطح تک پہنچا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کے یو لیووین اور ہاسلٹ یونیورسٹی سے وابستہ بائیو اسٹیٹسٹیشن گیرٹ مولنبرگس نے کہا کہ شدید گرمی سے معاشی طور پر پسماندہ علاقوں میں رہنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق ٹھنڈک کی مناسب سہولیات تک محدود رسائی، رہائشی حالات کی خرابی اور سماجی و معاشی کمزوری زیادہ اموات کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار موسمیاتی تبدیلی کے باعث زیادہ بار اور زیادہ شدت سے آنے والی گرمی کی لہروں سے پیدا ہونے والے صحت کے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ مؤثر ہیٹ ایکشن پلان، عوامی آگاہی مہمات اور بزرگ افراد، دائمی بیماریوں میں مبتلا شہریوں اور کم آمدنی والے طبقات سمیت حساس گروہوں کے تحفظ کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں گرمی سے ہونے والی اموات میں کمی لائی جا سکے۔