
تہران، 15 اگست 2026 (غفران): ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ جنوبی بیروت میں اسرائیلی حملے کے بعد واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات معطل کر دیے گئے ہیں، جس میں حزب اللہ کے ایک سینئر کمانڈر ہلاک ہوئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق قالیباف نے بتایا کہ جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں اسرائیلی حملے کے دوران حزب اللہ کے انٹیلی جنس چیف اور ان کے خاندان کے بعض افراد بھی مارے گئے۔ قالیباف نے کہا کہ حملے کے بعد ایران نے مذاکرات فوری طور پر روک دیے اور واضح کیا کہ تہران اسی رات اسرائیلی حملے کا جواب دے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے ایران کے خلاف جوابی کارروائی کی تو ایران پورے خطے کو نشانہ بنائے گا۔قالیباف نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایک مبینہ معاہدے کے معاملے پر بھی بات کی۔ ان کے مطابق ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ناکہ بندی اسی رات ختم کی جا رہی ہے اور اس کے بدلے ایران آبنائے ہرمز کھول دے گا۔ قالیباف نے کہا کہ انہوں نے اس بیان کو دیکھ کر معاملہ روک دیا اور واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا تھا۔انہوں نے ثالثوں سے کہا کہ امریکی صدر کی پوسٹ سے آبنائے ہرمز سے متعلق حوالہ حذف کیا جائے، بصورت دیگر ایران پہلے اعلان کردہ شدت کے مطابق حملہ کرے گا۔قالیباف کے مطابق 58 منٹ بعد صدر ٹرمپ نے پوسٹ کے دوسرے حصے کو حذف کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز ہفتے کے روز کھول دی جائے گی۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کو روایتی سفارت کاری کے بجائے ’’ایک قسم کی جدوجہد‘‘ قرار دیا، جو دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔