
اسلام آباد، یکم نومبر 2026 (کامران راجہ): بھارتی پنجاب کی قانون ساز اسمبلی نے سکھ یاتریوں کو پاکستان میں ان کے مقدس مذہبی مقام تک رسائی فراہم کرنے کے لیے کرتارپور راہداری فوری کھولنے کے مطالبے پر متفقہ قرارداد منظور کر لی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قرارداد ریاستی وزیر تعلیم ہرجوت سنگھ بینز نے پیش کی، جس کی تمام ارکان اسمبلی نے حمایت کی، جبکہ وزیراعلیٰ بھگونت مان نے بھی اس مطالبے کی بھرپور تائید کی۔ قرارداد میں بھارتی مرکزی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ راہداری کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کرے اور سکھ یاتریوں کو گردوارہ دربار صاحب کرتارپور جانے کے لیے بلا تعطل رسائی فراہم کرے۔ ارکان اسمبلی نے کرتارپور راہداری کو مذہبی ہم آہنگی، مشترکہ ثقافتی ورثے اور بین المذاہب رواداری کی علامت قرار دیتے ہوئے یاتریوں کے لیے سفری اور داخلے کے طریقہ کار کو آسان بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ بھارت نے پہلگام واقعے کے بعد 7 مئی 2025 کو کرتارپور راہداری بند کر دی تھی۔ سیاسی مبصرین نے راہداری کی مسلسل بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے سکھ برادری کے مذہبی جذبات متاثر ہوئے ہیں اور انہیں اپنے مقدس مقام کی زیارت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ متفقہ قرارداد کے ذریعے بھارتی مرکزی حکومت پر ایک بار پھر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور سکھ یاتریوں کے لیے کرتارپور آمد و رفت بحال کرے۔