
لاہور، 27 ستمبر، 2026 (نوشین): نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) متعدد بار رسائی کی درخواستوں کے باوجود پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کے موبائل فون کا تاحال فرانزک معائنہ نہیں کر سکی، ذرائع کے مطابق رضوان نے این سی سی آئی اے کی تحقیقات میں مکمل تعاون نہیں کیا اور ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ مکمل تعاون نہ کرنے کی صورت میں ایجنسی قانونی کارروائی کر سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانزک معائنہ مکمل کرنے کے لیے موبائل فون کا اینٹی تھیفٹ لاک اور فیشل ریکگنیشن لاک غیر فعال کرنا ضروری ہے۔ اگرچہ این سی سی آئی اے مختلف موبائل فرانزک ٹولز کے ذریعے فون کو ان لاک کر سکتی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق ایجنسی ان ٹولز کے استعمال سے گریز کر رہی ہے کیونکہ اس سے کچھ ڈیٹا حذف ہونے کا خدشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق ایجنسی 28 ستمبر کو ایک بار پھر محمد رضوان سے رابطہ کرے گی اور تحقیقات میں تعاون نہ کرنے کی صورت میں بعد ازاں تحریری نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کچھ افراد رضوان کو تحقیقات میں تعاون نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں، تاہم ایجنسی نے تحقیقات مکمل ہونے تک ان کے خلاف کوئی الزام عائد نہیں کیا۔ دوسری جانب کرکٹر امام الحق این سی سی آئی اے کی تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں اور ان کے موبائل فون کا فرانزک ڈیپ اینالیسس ان کی موجودگی میں شروع کر دیا گیا ہے۔ این سی سی آئی اے معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے، جن میں آن لائن بیٹنگ، کرپشن اور ممکنہ مجرمانہ سرگرمیاں شامل ہیں۔ تحقیقات کا آغاز پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کے دوران میڈیا رپورٹس کے بعد کیا گیا تھا، جن میں ڈسپلن، طرز عمل اور مبینہ ڈریسنگ روم لیکس سے متعلق معاملات سامنے آئے تھے۔ 7 ستمبر کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے کہا تھا کہ اس نے ڈسپلن اور طرز عمل سے متعلق میڈیا رپورٹس کے بعد اندرونی تادیبی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ 11 ستمبر کو محمد رضوان اور امام الحق کو پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون ڈومیسٹک فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں شرکت سے روک دیا گیا تھا۔