تہران، 18 اگست، 2026 (کامران راجہ): ایران کو مبینہ طور پر جنگ کے دوران مار گرائے جانے والے امریکی ایف-15 جنگی طیاروں کے ملبے سے امریکا کا تیار کردہ ایک ہتھیار مل گیا ہے، جس سے تہران کو امریکی فوجی ٹیکنالوجی کا مطالعہ کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے طیارے کے ملبے سے ’’جی اے یو-5 اے‘‘ ہتھیار برآمد کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ ہتھیار امریکی پائلٹس کو دشمن کے علاقے میں انتہائی خطرناک حالات کے دوران اپنی بقا کے لیے تیار کیا گیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ہتھیار کسی امریکی پائلٹ سے براہ راست قبضے میں لینے کے بجائے طیارے کے ملبے سے ایرانی فورسز کے ہاتھ لگا۔ برآمد ہونے والا یہ سامان ایران کو اپنے مخالف کی جانب سے استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجی کو سمجھنے میں اہم معلومات فراہم کر سکتا ہے۔ دریں اثنا، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کا ایران کو غیر مشروط ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔عراقچی نے کہا کہ ایران نے فوجی اور سفارتی دونوں محاذوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کے مطابق ایرانی قوم نے دنیا کی بظاہر سب سے بڑی فوج کا مقابلہ کیا اور جنگ مسلط کرنے والوں کو جلد ہی مذاکرات کے لیے رجوع کرنا پڑا۔
