Tuesday, November 3

ایران جنگ پر امریکی اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے، پینٹاگون کا تخمینہ

US Costs of Iran War Exceed $47 Billion, According to Pentagon Estimate

اسلام آباد، 28 اکتوبر 2026(کامران راجہ): امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے تخمینے کے مطابق ایران کے خلاف جنگ پر امریکی فوج کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں، جو جولائی میں لگائے گئے تخمینے سے 25 فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کو حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات سامنے آنے پر پینٹاگون نے تازہ تخمینے کو تاحال عوامی سطح پر جاری نہیں کیا اور تبصرے کی درخواست پر بھی فوری ردعمل نہیں دیا۔ جنگ کے مالی بوجھ میں اضافے کا انکشاف ایسے وقت میں ہوا ہے جب ریپبلکن پارٹی کو 3 نومبر کے انتخابات سے قبل سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جن کے ذریعے آئندہ دو برس کے لیے امریکی کانگریس پر کنٹرول کا فیصلہ ہوگا۔ جنگ کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کو متاثر کیا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی درجہ بندی میں بھی کمی آئی ہے۔ پینٹاگون کے تخمینے کے مطابق جنگ میں استعمال ہونے والے گولہ بارود اور میزائلوں کی جگہ نئے ہتھیار خریدنے کے لیے 29 ارب ڈالر سے زائد درکار ہوں گے، جبکہ تباہ یا ضائع ہونے والے فوجی سازوسامان، طیاروں اور ڈرونز کی جگہ نئے آلات حاصل کرنے پر 6 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہونے کا امکان ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی اور ابتدا میں پیش گوئی کی تھی کہ یہ تنازع مختصر عرصے میں ختم ہو جائے گا۔ امریکی فوجی حکمت عملی کے ابتدائی مرحلے میں ایران کے دفاعی نظام کو کمزور کرنے کے لیے مہنگے اور انتہائی درست نشانہ لگانے والے میزائل استعمال کیے گئے، جس کے بعد نسبتاً کم لاگت والے ہتھیاروں، بشمول فضا سے داغے جانے والے جے ڈی اے ایم بموں، کے استعمال کا منصوبہ تھا۔ تاہم، اپریل میں ہونے والی جنگ بندی نے مبینہ طور پر ایران کو زیرزمین ذخیرہ گاہوں سے سامان نکالنے اور بعض دفاعی نظاموں، میزائلوں اور ڈرونز کو دوبارہ فعال کرنے کا موقع فراہم کیا، جس سے امریکی فوجی کارروائیوں کے چیلنجز اور جنگ کے مجموعی مالی اخراجات میں مزید اضافہ ہوا۔