کھٹمنڈو، 23 اکتوبر 2026 (نوشین): نیپال کی حکومت نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اگست میں چین کے تبت کے ساتھ سرحدی علاقے میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ملک کو اقوام متحدہ کے نقصانات اور تباہ کاریوں سے نمٹنے کے فنڈ سے 2 کروڑ ڈالر کی امداد ملے گی۔ 26 اگست کو آنے والے سیلاب کے نتیجے میں تقریباً 1,500 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 5,000 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق قدرتی آفت سے تقریباً 15,000 خاندانوں کے 60,000 افراد متاثر ہوئے، جبکہ سڑکوں، پلوں، اسکولوں اور 13 پن بجلی گھروں سمیت بنیادی ڈھانچے کو تقریباً 2.7 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔ ابتدائی سرکاری تخمینوں کے مطابق تعمیر نو کے اخراجات 4.7 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتے ہیں، جس کے باعث اقوام متحدہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی 2 کروڑ ڈالر کی امداد مجموعی ضروریات کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ نیپال کی وزارت زراعت، جنگلات و ماحولیات نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ مالی معاونت موسمیاتی تبدیلی سے متعلقہ آفت کے نتیجے میں ہونے والے شدید نقصانات سے نمٹنے میں مدد دے گی۔ نیپال نے سیلاب کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے بعد اگست میں متعلقہ فنڈ کو باضابطہ طور پر امداد کی درخواست بھیجی تھی۔ وزیراعظم بالیندر شاہ نے ستمبر میں اقوام متحدہ سے اپنے پہلے خطاب میں اس آفت کو عالمی برادری کے لیے ایک انتباہ قرار دیا اور سیلاب کی وجہ موسمیاتی تبدیلی کو قرار دیا، حالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نیپال کا حصہ نہایت معمولی ہے۔
