
اسلام آباد، 3 نومبر 2026 (نوشین): امریکا میں اہم وسط مدتی انتخابات کے لیے لاکھوں شہری ووٹ ڈال رہے ہیں، جن کے نتائج کانگریس میں طاقت کا توازن طے کرنے کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی ایک بڑا سیاسی امتحان ثابت ہوں گے۔ ان انتخابات کو ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے ابتدائی دو سال کی کارکردگی پر عوامی رائے شماری قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جبکہ سینیٹ میں اکثریت کے لیے دونوں جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر ووٹنگ ہورہی ہے۔ ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کم از کم تین جبکہ سینیٹ میں چار اضافی نشستیں درکار ہیں۔ مشی گن، ٹیکساس، الاسکا اور کنساس اہم انتخابی میدان بن چکے ہیں، جبکہ آئیووا، نیبراسکا، اوہائیو اور جنوبی کیرولائنا میں بھی سخت مقابلے متوقع ہیں۔ صدر ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، معاشی مسائل اور ایران کے ساتھ جنگ سے نمٹنے کے حکومتی طریقہ کار پر عوامی عدم اطمینان نے ری پبلکن امیدواروں کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ انتخابی جائزوں اور غیر جانبدار تجزیہ کاروں کے مطابق ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان میں کامیابی کے اچھے امکانات ہیں، تاہم سینیٹ کے نتائج کے بارے میں صورتحال غیر یقینی ہے۔ مشی گن میں ڈیموکریٹک امیدوار عبدل السید کا ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز سے اہم مقابلہ ہے، جبکہ ٹیکساس میں ڈیموکریٹ جیمز تالاریکو ری پبلکن کین پیکسٹن کے مدمقابل ہیں۔ الاسکا میں ڈیموکریٹ میری پیلٹولا کا ری پبلکن سینیٹر ڈین سلیوان سے مقابلہ ہے، جبکہ کنساس میں ڈیموکریٹ ایڈم ہیملٹن ری پبلکن سینیٹر راجر مارشل کو شکست دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ کانگریس کے کسی بھی ایوان میں ڈیموکریٹس کی کامیابی صدر ٹرمپ کے قانون سازی کے منصوبوں کو محدود کرسکتی ہے، ان کی حکومت کے خلاف کانگریسی تحقیقات میں اضافہ ہوسکتا ہے اور حکومتی تقرریوں سمیت اہم قانون سازی میں ڈیموکریٹس کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب ری پبلکنز کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے اور صدر کی پالیسیوں کی حمایت جاری رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔ وسط مدتی انتخابات میں گورنرز، ریاستی قانون ساز اداروں اور عوامی ریفرنڈم سے متعلق مختلف معاملات پر بھی ووٹنگ ہورہی ہے۔ انتخابی نتائج نہ صرف امریکا کی آئندہ سیاسی سمت کا تعین کریں گے بلکہ 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے دونوں بڑی جماعتوں کی حکمت عملی پر بھی اثر انداز ہوں گے۔