
اسلام آباد، یکم نومبر 2026 (نوشین): ایران اور قطر کے درمیان امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں اور ایرانی مذاکرات کار اتوار کو مسلسل تیسرے روز دوحہ میں قطری ثالثوں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ مذاکرات سے باخبر ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اس سے قبل قطری ثالث جمعے کو تہران میں ایرانی حکام سے ملاقاتیں کر چکے ہیں، جس کے بعد مذاکرات ہفتے کو دوحہ منتقل کر دیے گئے۔ یہ سفارتی رابطے 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد تنازع مزید شدت اختیار کرنے کے خدشات کے تناظر میں ہو رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ انتخابات سے قبل ایران پر نئے حملے نہیں کرے گا اور تہران کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم انہوں نے انتخابات کے بعد ممکنہ فوجی کارروائی کا امکان مسترد نہیں کیا۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کی صورت میں وہ پڑوسی ممالک میں موجود امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنائے گا۔ آٹھ ماہ سے جاری جنگ کے باعث عالمی تیل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بھی بڑھ گئی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ہفتے کو مسلح افواج کو کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دینے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی، جس کے بعد ایرانی فوج نے بھی اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید بہتر بنانے کے اقدامات کا اعلان کیا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ابھی ایران پر مزید حملوں کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم وہ تنازع کا سفارتی حل چاہتے ہیں۔ مذاکرات سے متعلق عہدیدار کے مطابق قطر کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت واشنگٹن کے ساتھ مسلسل رابطوں اور مشاورت کے ذریعے آگے بڑھائی جا رہی ہے تاکہ جنگ میں مزید شدت کو روکا جا سکے اور سفارتی حل کی راہ ہموار ہو۔