
اقوام متحدہ، 16 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): اقوام متحدہ کی آئندہ سیکریٹری جنرل بننے کی مضبوط امیدوار ربیقہ گرینسپین نے عالمی ادارے میں جامع اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ ضرورت سے زیادہ خطرات مول لینے سے گریز کرنے لگا ہے، اس لیے سفارتی سرگرمیوں میں زیادہ فعال کردار، بیوروکریسی میں کمی اور کارکردگی میں بہتری ضروری ہے۔ جمعرات کو خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نئے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے لیے ہونے والی ایک اور رائے شماری سے قبل کہی۔ موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی دوسری پانچ سالہ مدت 31 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے۔ کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر ربیقہ گرینسپین نے کہا کہ اقوام متحدہ کے آئندہ سربراہ کو سفارتی ناکامیوں کی قیمت برداشت کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے دوبارہ کوشش کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف اخراجات میں کمی سے ایسے ادارے کی بحالی ممکن نہیں جو محدود ہوتے وسائل اور گرتے ہوئے سیاسی اثرورسوخ کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ملازمتوں میں کمی، اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے درمیان کام کی غیر ضروری تکرار کا خاتمہ اور بنیادی مقاصد پر توجہ مرکوز کرنا ناگزیر ہے۔ اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقی سے متعلق کانفرنس کی سربراہ کے طور پر اپنے دور کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ادارے کی ترجیحات کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے انہوں نے ملازمتوں میں 20 فیصد کمی کی تھی۔ گرینسپین نے امن مشنز کے لیے زیادہ لچکدار حکمت عملی اپنانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ جہاں روایتی امن مشنز قابلِ عمل نہ ہوں، وہاں متبادل طریقوں پر غور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے ساتھ قریبی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ہیٹی میں کثیرالقومی معاونتی مشن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو نئے طریقے اپنانے اور عملی تجربات سے سیکھنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انتخابی عمل سے واقف سفارت کاروں کے مطابق گرینسپین پانچ میں سے چار غیر رسمی رائے شماریوں میں آگے رہی ہیں اور گزشتہ مرحلے میں انہیں نو ووٹوں کی حمایت حاصل ہوئی۔ نئے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے لیے سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے کم از کم نو ووٹ درکار ہیں، جبکہ امریکہ، چین، روس، فرانس اور برطانیہ سمیت پانچ مستقل ارکان میں سے کسی کی مخالفت نہیں ہونی چاہیے۔ جمعہ کی رائے شماری میں پہلی مرتبہ رنگوں سے نشان زد بیلٹ پیپرز استعمال کیے جانے کی توقع ہے، جن کے ذریعے معلوم ہو سکے گا کہ کوئی مستقل رکن امیدوار کی مخالفت کر رہا ہے یا نہیں۔ گرینسپین نے امکان ظاہر کیا کہ انہیں کسی مستقل رکن کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسی مخالفت پر قابو پایا جا چکا ہے۔ اگر وہ منتخب ہو جاتی ہیں تو اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی خاتون سیکریٹری جنرل ہوں گی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انتخابی عمل ابھی مکمل نہیں ہوا اور دیگر اہم سیاسی شخصیات بھی اس دوڑ میں شامل ہونے پر غور کر رہی ہیں۔