
نیویارک، 25 ستمبر, 2026 (کامران راجہ): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امن، مذاکرات، کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں سے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور علاقائی و عالمی چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے تصادم پر مذاکرات، جبر پر تعاون اور جنگ پر امن کو ترجیح دی ہے، عالمی برادری اعتماد کی بحالی اور تنازعات کی روک تھام کے لیے اجتماعی طور پر کردار ادا کرے۔ انہوں نے جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر خلیل الرحمٰن کو مبارکباد دی جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سابق جنرل اسمبلی صدر اینالینا بیئربوک کی قیادت کو سراہا۔ خلیج اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ تصادم کے بجائے سفارت کاری کو فوقیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی اہم شاہراہیں ہیں اور انہیں بین الاقوامی تجارت کے لیے کھلا رہنا چاہیے۔ وزیراعظم نے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقصد خطے میں دفاع، استحکام اور امن کو مضبوط بنانا ہے اور یہ کسی ملک کے خلاف نہیں۔
جنوبی ایشیا کے حوالے سے وزیراعظم نے جموں و کشمیر کے تنازع پر پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے منصفانہ اور عادلانہ حل پر زور دیا اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے پاکستان کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے دریائے سندھ کے نظام سے متعلق بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مؤثر ہے اور پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے۔ فلسطین کی انسانی صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے شہریوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار، قابل عمل اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ انہوں نے لبنان اور شام کے خلاف جارحیت کے خاتمے پر بھی زور دیا۔ دہشت گردی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ یہ عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرات میں سے ایک ہے اور پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کریں اور افغان سرزمین کو پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے قابل تصدیق اور فیصلہ کن اقدامات کریں، جبکہ افغان عوام بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ معاشی بحالی ان کی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ساختی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، زراعت اور صنعت کی جدید کاری، معدنی وسائل کی ترقی، ڈیجیٹلائزیشن اور نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مہارتوں سے آراستہ کرنے کے اقدامات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے چین کے ساتھ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے اقتصادی تعاون کے فروغ کے علاوہ خلیجی ممالک، وسطی ایشیا اور دیگر خطوں کے ساتھ تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔ وزیراعظم نے ترقی پذیر ممالک کے لیے قرضوں میں ریلیف، سستے اور طویل مدتی مالیاتی وسائل اور عالمی مالیاتی اداروں میں زیادہ نمائندگی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کو بھی سلامتی جتنی اہمیت اور فوری توجہ ملنی چاہیے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کی حساسیت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی مالیاتی وعدے پورے کریں اور نقصانات، موافقت اور موسمیاتی لچک کے لیے معاونت فراہم کریں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کو زیادہ مضبوط، مربوط اور مؤثر بنانے کے لیے اصلاحات کی حمایت کرتے ہوئے زیادہ نمائندہ، جمہوری اور جوابدہ سلامتی کونسل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وزیراعظم نے پاکستان کے مؤقف کو اس نعرے میں سمیٹتے ہوئے کہا: “سب کے لیے اصلاحات — کسی کے لیے خصوصی استحقاق نہیں۔” خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ دنیا ایک خطرناک دور سے گزر رہی ہے تاہم مستقبل پہلے سے طے شدہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ ایک انتخاب ہے اور امن بھی ایک انتخاب ہے، عالمی برادری اعتماد بحال کرے، امن کو برقرار رکھے اور ثابت کرے کہ اختلافات کے باوجود انسانیت متحد ہو سکتی ہے۔