
میڈرڈ، 12 اگست 2026 (نوشین): اسپین نے شمالی افریقی علاقوں سبتہ اور میلیلیہ کی خودمختاری سے متعلق کسی بھی قسم کی بات چیت کو مسترد کردیا ہے۔ یہ بیان مراکش کے وزیر انصاف کی جانب سے دونوں ہسپانوی علاقوں پر رباط کے دعوے کو ایک بار پھر دہرانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ہسپانوی حکام نے کہا ہے کہ سبتہ اور میلیلیہ کی اسپین سے وابستگی کسی مذاکرات کا موضوع نہیں ہے۔ یہ بیان مراکش کے وزیر انصاف عبداللطیف وہبی کے اس بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ رباط اسپین کے ساتھ مذاکرات میں دونوں شہروں کی حیثیت کا معاملہ مسلسل اٹھاتا ہے اور طویل مدت میں اس مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کرنا چاہتا ہے۔مراکش 1956 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد سے سبتہ اور میلیلیہ کو اسپین کے زیر قبضہ علاقے قرار دیتا آیا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ بالآخر دونوں شہروں کی خودمختاری مراکش کو منتقل ہونی چاہیے۔ تاہم اسپین دونوں علاقوں کو اپنی سرزمین کا اٹوٹ حصہ قرار دیتا ہے۔
ہسپانوی وزیر دفاع مارگریٹا روبلز نے کہا کہ سبتہ اور میلیلیہ صرف ہسپانوی علاقے ہی نہیں بلکہ اسپین کا ناقابل تقسیم حصہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دونوں علاقوں پر کسی بھی حملے کو پورے اسپین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ہسپانوی حکومت نے جولائی کے اواخر میں پیدا ہونے والے سرحدی بحران کے بعد تارکین وطن کی واپسی میں تعاون پر مراکش کے حکام کو سراہا ہے۔ اس بحران کے دوران ایک اندازے کے مطابق 72 ہزار تارکین وطن مختصر وقت کے لیے سبتہ میں داخل ہوئے تھے، جبکہ بڑے پیمانے پر سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران کم از کم 96 افراد ہلاک ہوئے تھے۔اسپین کی وزارت خارجہ نے بھی الگ بیان میں واضح کیا کہ ملک کی علاقائی سالمیت ماضی میں بھی کسی کے ساتھ زیر بحث نہیں لائی گئی اور آئندہ بھی کسی فریق کے ساتھ اس پر مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔
دوسری جانب مراکش کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ 15 اگست کو ایک اور بڑے پیمانے پر سرحد عبور کرنے کی آن لائن اپیلوں کے بعد سبتہ اور میلیلیہ کی سرحدوں کے قریب سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔ وزارت نے خبردار کیا کہ ایسے اقدام کے منتظمین اور شرکا کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور عوام سے مشکوک اور گمراہ کن اپیلوں کا حصہ نہ بننے کی اپیل کی ہے۔مراکش نے اسپین سے سبتہ میں موجود غیر ہمراہ مراکشی کم عمر بچوں کی واپسی کے عمل کو تیز کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ہسپانوی وزیر برائے امور نوجوانان سیرا ریگو نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ میڈرڈ مراکش کی جانب سے بچوں کی واپسی کی پیشکش کا ہر کیس کا الگ جائزہ لے گا۔