
یروشلم، 27 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): اسرائیل میں منگل کے روز ریکارڈ تعداد میں ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، جہاں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات میں وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کو اپنی قیادت اور سکیورٹی پالیسیوں پر عوامی اعتماد کے اہم امتحان کا سامنا ہے۔ انتخابات میں غزہ، لبنان اور ایران میں ہونے والی جنگوں اور ان کے اثرات نے مرکزی حیثیت اختیار کر رکھی ہے۔ مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق پولنگ کے ابتدائی سات گھنٹوں میں 44.9 فیصد اہل ووٹرز اپنا ووٹ ڈال چکے تھے، جو ریکارڈ ٹرن آؤٹ قرار دیا گیا۔ اسرائیل کے طویل عرصے تک وزیرِاعظم رہنے والے نیتن یاہو کو اپنی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کی پالیسیوں پر اندرونِ ملک اختلافات اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے۔ ان کے اہم سیاسی حریف اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ مرکز اور دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت سے انہیں اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے 7 اکتوبر کے حملوں سے قبل اور اس دوران سکیورٹی کی ناکامیوں کی تحقیقات کرانے کا وعدہ کیا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق مقابلہ سخت ہے اور کسی بھی امیدوار کے لیے 120 رکنی اسرائیلی پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کرنا آسان دکھائی نہیں دیتا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کی بڑی تعداد میں ووٹنگ انتخابی نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتی ہے۔ نیتن یاہو نے اپنے حامیوں پر زور دیا کہ وہ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالیں اور اسے ملک کے مستقبل کے لیے اہم مرحلہ قرار دیا۔ دوسری جانب گادی آئزن کوٹ نے امید ظاہر کی کہ انتخابات سے اسرائیل میں نئی سیاسی فضا قائم ہوگی اور گزشتہ تین برسوں کے واقعات پر جواب دہی یقینی بنائی جا سکے گی۔ اپوزیشن نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر بھی نیتن یاہو حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جہاں فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 74 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ آئزن کوٹ نے حکومت بنانے کی صورت میں 18 ماہ کے اندر حماس کی فوجی اور انتظامی طاقت ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ انتہا پسند دائیں بازو کے رہنما ایتامار بن گویر نے پیش گوئی کی ہے کہ نیتن یاہو دوبارہ وزیرِاعظم بنیں گے۔ انتخابی نتائج کے بعد اگر نیتن یاہو یا آئزن کوٹ میں سے کوئی بھی حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اتحادی اکثریت حاصل نہ کر سکا تو نئے انتخابات تک نیتن یاہو عبوری وزیرِاعظم کے طور پر کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ ان انتخابات کو اسرائیل کی سیاسی قیادت، سکیورٹی پالیسیوں اور فلسطینیوں سمیت خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔