Monday, October 5

اسرائیل جانے والی پرواز کے مبینہ ہائی جیک کی کوشش، عمانی معاون پائلٹ کے خلاف تحقیقات جاری

 

dailypakistantimesnews,thepakistantimes.newsk,thepakistantimes.net, daily pakistan times.com

اسلام آباد، 5 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کو مبینہ طور پر ہائی جیک کرنے کی کوشش کے الزام میں 29 سالہ عمانی شہری حمام الحمامی کے پس منظر اور مبینہ انتہاپسندی کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ معاون پائلٹ کب، کہاں اور کن ذرائع کے ذریعے انتہاپسند نظریات سے متاثر ہوا، جبکہ شام، آسٹریلیا اور اس کی آن لائن سرگرمیاں تحقیقات کے اہم پہلو بن گئی ہیں۔ حمام الحمامی نے پہلے عمان ایئر کے کیڈٹ پائلٹ پروگرام میں شمولیت اختیار کی اور 2022 میں معاون پائلٹ کے طور پر پروازیں شروع کیں۔ 2024 میں عمانی حکام نے مبینہ طور پر اس کے انتہاپسند نظریات اور شدت پسند مواد رکھنے پر تحفظات کا اظہار کیا، جس کے بعد اسے پرواز سے ہٹا کر انتظامی ذمہ داریاں سونپ دی گئی تھیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق اسے انتہاپسند نظریات سے دور کرنے کے لیے ایک پروگرام سے بھی گزارا گیا تھا۔ تفتیش کار اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان خدشات کے باوجود وہ بعد میں فلائی دبئی کے مسافر طیارے کے کاک پٹ تک کیسے پہنچا۔ اطلاعات کے مطابق عمان ایئر کے بعد الحمامی نے رائل ایئر ماروک میں مختصر تربیت حاصل کی اور بعد ازاں فلائی دبئی سے وابستہ ہوگیا۔ آسٹریلیا بھی تحقیقات میں ایک اہم کڑی کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں وہ 2015 میں طالب علم کی حیثیت سے گیا اور میلبورن کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی، تاہم 2017 میں تعلیم مکمل کیے بغیر آسٹریلیا چھوڑ دیا۔ آسٹریلوی وفاقی پولیس، آسٹریلین سیکیورٹی انٹیلی جنس آرگنائزیشن اور وکٹوریہ پولیس آسٹریلیا میں اس کے روابط اور سرگرمیوں کا جائزہ لے رہی ہیں۔ برطانیہ کی بکنگھم شائر نیو یونیورسٹی نے بھی تصدیق کی ہے کہ الحمامی نے فاصلاتی تعلیم کے ذریعے ہوا بازی کے انتظام سے متعلق ایک کورس مکمل کیا تھا، تاہم وہاں اسے پائلٹ کی تربیت نہیں دی گئی۔ تفتیش کار اس کے مبینہ طور پر حذف کیے گئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ سی این این کے مطابق اس سے منسوب اکاؤنٹس میں القاعدہ کے سابق سربراہ ایمن الظواہری، 2009 میں افغانستان میں خودکش حملہ کرنے والے ایک شدت پسند کی تصاویر اور بوئنگ 737 میکس کے کاک پٹ کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔ بعض پرانی پوسٹس میں خواتین کے کام کرنے اور اہلیہ کے نقاب سے متعلق انتہائی سخت خیالات بھی ظاہر کیے گئے تھے، تاہم یہ مواد اس بات کا حتمی ثبوت نہیں کہ وہ کسی منظم دہشت گرد تنظیم کا رکن تھا۔ اس کے شام میں قیام کو بھی ممکنہ نظریاتی تبدیلی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جبکہ آسٹریلیا میں قیام اور انٹرنیٹ پر سرگرمیوں کو بھی ممکنہ عوامل کے طور پر جانچا جا رہا ہے۔ تفتیش کار اب تک کسی بڑے دہشت گرد گروپ یا غیر ملکی ریاست کے ساتھ اس کے تعلق کا قابلِ اعتماد ثبوت حاصل نہیں کرسکے اور یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اس نے یہ کارروائی اکیلے کی یا کسی شدت پسند نیٹ ورک سے مدد یا ہدایات حاصل کیں۔ ابتدائی اسرائیلی تحقیقات میں بھی اسے ممکنہ طور پر تنہا کارروائی کرنے والا شخص سمجھا جا رہا ہے، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔ 30 ستمبر کو حمام الحمامی نے مبینہ طور پر فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کے کاک پٹ میں تیز دھار آلے سے پائلٹ پر حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ دبئی سے تل ابیب جانے والی اس پرواز میں 170 سے زائد مسافر سوار تھے، جن میں زیادہ تر اسرائیلی شہری تھے۔ مزاحمت کے دوران طیارہ اچانک کئی ہزار فٹ نیچے آگیا جس سے اس کے گرنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود پائلٹ کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگیا، جس کے بعد مسافروں اور عملے نے مبینہ حملہ آور کو قابو کرلیا۔ بعد ازاں طیارے نے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کی، جہاں زخمی پائلٹ کو طبی امداد فراہم کی گئی اور ملزم معاون پائلٹ کو حراست میں لے لیا گیا۔ متحدہ عرب امارات نے اس واقعے کو دہشت گرد حملہ قرار دیا ہے۔ تفتیش کار اس امر کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ عمان میں اس شخص کے حوالے سے سامنے آنے والے مبینہ سیکیورٹی خدشات کی معلومات مختلف ممالک اور فضائی کمپنیوں کے درمیان مؤثر انداز میں کیوں منتقل نہ ہوسکیں اور وہ دوبارہ مسافر طیارے کے کاک پٹ تک کیسے پہنچ گیا۔