Thursday, August 13

اردوان کی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت کی خواہش

انقرہ، 12 اگست 2026 (کامران راجہ): ترک صدر رجب طیب اردوان نے امید ظاہر کی ہے کہ گزشتہ ہفتے ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک شامل ہوں گے، اور یہ اتحاد مستقبل میں خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل سکتا ہے۔لندن میں قائم اخبار الشرق الاوسط کو انٹرویو دیتے ہوئے اردوان نے کہا کہ معاہدے کا وژن صرف تین بانی ممالک تک محدود نہیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ دائرہ مزید وسیع ہو۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایسے موزوں حالات پیدا ہوسکتے ہیں جن کے تحت خطے کے تمام ممالک اس معاہدے کے پلیٹ فارم کا حصہ بن سکیں۔مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر گزشتہ جمعے دستخط ایسے وقت میں ہوئے جب مشرق وسطیٰ امریکی ایران جنگ کے اثرات سے دوچار ہے، جس میں خطے کے دیگر ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں اور آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے ذریعے بحری تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔

ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان نے اس سے قبل کہا تھا کہ ترکیہ کو توقع ہے کہ مصر اگلے مرحلے میں اس معاہدے میں شامل ہوگا، جبکہ اس حوالے سے صرف چند تکنیکی امور حل طلب ہیں۔ مصر نے تاحال اس تجویز پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ حاکان فیدان جمعرات اور جمعہ کو قاہرہ کا دورہ کریں گے۔اردوان نے کہا کہ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال کے نتیجے میں سامنے آیا ہے، جہاں علاقائی ممالک اپنی سلامتی اور استحکام کی زیادہ ذمہ داری خود اٹھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ علاقائی مسائل کا حل خطے کے ممالک کو خود تلاش کرنا چاہیے اور بیرونی طاقتوں کی جانب سے مسلط کردہ فارمولوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔57 رکنی تنظیم تعاون اسلامی نے بھی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ایک اہم تزویراتی قدم قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ کویت، بحرین اور صومالیہ سمیت متعدد ممالک نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کیا، جبکہ ایران نے بھی علاقائی ممالک کے باہمی تعاون پر مبنی سیکیورٹی نظام کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ دفاعی معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔یہ معاہدہ گزشتہ ستمبر ریاض میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کی بنیاد پر مزید پیش رفت ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ کسی ایک ملک پر حملہ دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔پاکستان امریکی ایران تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی کر رہا ہے، جبکہ ترکیہ غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں بھی سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔