
ویانا، 7 ستمبر 2026 (نوشین): آسٹریا میں 14 سال سے کم عمر بچیوں کے اسکولوں میں حجاب پہننے پر عائد پابندی کو اسکول دوبارہ کھلنے کے ساتھ ہی پہلے بڑے امتحان کا سامنا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی مسلم تنظیم نے اس اقدام کو امتیازی قرار دیتے ہوئے آئینی عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ قانون آسٹریا کی تین وسطی جماعتوں پر مشتمل حکمران اتحاد نے پیش کیا تھا، جس کا مؤقف ہے کہ پابندی کا مقصد بچیوں کی آزادی کا تحفظ ہے۔ پارلیمنٹ نے دسمبر میں انتہائی دائیں بازو کی فریڈم پارٹی کی حمایت سے قانون منظور کیا تھا، جبکہ بائیں بازو کی گرینز پارٹی پارلیمنٹ میں اس کی مخالفت کرنے والی واحد جماعت تھی۔ آسٹریا میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم اسلامک ریلیجس کمیونٹی ان آسٹریا نے پابندی کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے آئینی عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عدالت نے جولائی میں اس قانون کے خلاف ابتدائی درخواستیں مسترد کر دی تھیں کیونکہ اس وقت قانون نافذ نہیں ہوا تھا۔ آئینی عدالت نے 2020 میں بھی 10 سال سے کم عمر بچیوں پر اسکولوں میں حجاب کی پابندی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ عدالت کے مطابق یہ پابندی مسلمانوں کے خلاف امتیاز کے مترادف تھی اور ریاست کی مذہبی غیر جانب داری کے اصول سے متصادم تھی۔ تعلیم کے وزیر کرسٹوف وائیڈرکیر نے کہا کہ عدالت ممکنہ طور پر نئے قانون کو ختم کرے گی یا برقرار رکھے گی، اس بارے میں مکمل یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم انہوں نے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور وزارتِ تعلیم نے قانون کو آئین کے مطابق بنانے کے لیے تفصیلی مشاورت کی ہے۔ بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے بھی پابندی کے خلاف احتجاج کی اپیل کی ہے۔ آسٹریا کے تین مشرقی صوبوں، ویانا، زیریں آسٹریا اور برجن لینڈ میں نیا تعلیمی سال پیر سے شروع ہوگیا ہے، جبکہ ملک کی دیگر ریاستوں میں اسکول آئندہ ہفتے دوبارہ کھلیں گے۔