Saturday, October 24

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نئے سرحدی پل کے ذریعے چین پہنچ گئے

North Korean Leader Kim Jong Un Visits China via Newly Opened Border Bridge

سیئول، 24 اکتوبر 2026 (نوشین): شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن ہفتے کے روز نئے تعمیر شدہ دریائے یالو پل کے ذریعے چین پہنچ گئے، جو دونوں پڑوسی ممالک کو ملاتا ہے۔ جنوبی کوریا کے ایک سرکاری اہلکار نے اس پیش رفت کی تصدیق کی۔ اہلکار کے مطابق کم جونگ اُن سرحدی شہر ڈانڈونگ کے راستے چین میں داخل ہوئے۔ معاملے پر عوامی سطح پر بات کرنے کی اجازت نہ ہونے کے باعث اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی۔ جنوبی کوریا کے ایک دوسرے اہلکار نے بتایا کہ چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے ڈانڈونگ میں کم جونگ اُن سے ملاقات کی۔ یہ دورہ 1950 سے 1953 تک جاری رہنے والی کوریائی جنگ میں چین کی شمولیت کی سالگرہ سے ایک روز قبل ہوا ہے۔ جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی یونہاپ کے مطابق کم جونگ اُن ہفتے ہی کو شمالی کوریا واپس جانے والے تھے، جبکہ جنوبی کوریا کے ایک اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ پیر سے شروع ہونے والے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاسوں سے قبل ان کے بیجنگ جانے کا امکان کم ہے۔ چین کی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔ چین اور شمالی کوریا کے درمیان تین کلومیٹر طویل نیا دریائے یالو پل طویل تاخیر کے بعد رواں ماہ کھولا گیا۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان زمینی سرحد پر اہم ترین گزرگاہ ہے۔ دونوں ممالک کا مقصد کشیدہ تعلقات اور کورونا وبا کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے بعد تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کو دوبارہ فروغ دینا ہے۔ شینیانگ میں قائم لیاؤننگ اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے ماہر لو چاؤ کے مطابق کم جونگ اُن کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی اقتصادی تعلقات اور اعلیٰ سطحی رابطوں میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے پل کے کھلنے سے چین اور شمالی کوریا کی تجارت میں ایک بڑی ترسیلی رکاوٹ دور ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں دوطرفہ تجارت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ توقع ہے کہ اس پل کے ذریعے شمالی کوریا کی ترقی کے لیے درکار بھاری مشینری، خام مال اور توانائی کی مصنوعات کی نقل و حمل میں آسانی ہوگی۔ پل کا افتتاح بیجنگ اور پیانگ یانگ کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کی ایک اور علامت ہے، جہاں گزشتہ 13 ماہ کے دوران دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان دو سربراہی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ کم جونگ اُن کا چین کا آخری معلوم دورہ ستمبر 2025 میں ہوا تھا، جب انہوں نے بیجنگ میں یومِ فتح کی 80ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کی اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی تھی۔ شی جن پنگ نے جون میں شمالی کوریا کا سرکاری دورہ کیا تھا۔ نیدرلینڈز کی لیڈن یونیورسٹی سے وابستہ کوریا امور کے ماہر کرسٹوفر گرین نے کہا کہ کم جونگ اُن کا نئے پل کے ذریعے چین میں داخل ہونا دوطرفہ تجارت کی حمایت کا اظہار ہے۔ ان کے مطابق یہ پل ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک دونوں ممالک کے تعلقات میں مشکلات کی علامت رہا۔ چین، جس نے کوریائی جنگ میں شمالی کوریا کے ساتھ مل کر جنگ لڑی تھی، آج بھی پیانگ یانگ کا سب سے اہم اقتصادی اور سفارتی حامی ہے اور شمالی کوریا کی زیادہ تر سرکاری تجارت چین کے ساتھ ہوتی ہے۔ تاہم، روس کی جانب سے 2022 میں یوکرین پر مکمل پیمانے پر حملے کے بعد شمالی کوریا نے ماسکو کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں، جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے بیجنگ پر پیانگ یانگ کا انحصار کم ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے خواہاں ہیں، تاہم امریکی اور جنوبی کوریائی حکام کو اب اس سال ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی ملاقات کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔ رائٹرز نے جمعے کو یہ رپورٹ دی تھی۔ چین اگلے ماہ شینزن میں ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون فورم کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا، جس میں ٹرمپ کی شرکت متوقع ہے۔