اسلام آباد، 22 اکتوبر 2026 (غفران): ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر دوبارہ جنگ چھڑتی ہے تو وہ امریکہ سے منسلک زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے، جبکہ تہران نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات معطل ہونے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایرانی سلامتی کے سربراہ محسن رضائی نے جمعرات کو یہ انتباہ جاری کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی تنازع کا دائرہ اہم ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے تک پھیل سکتا ہے۔ دوسری جانب اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحری افواج نے خلیج عرب کے شمالی حصے میں تیل بردار چار جہازوں کو نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام نے ان جہازوں پر الزام عائد کیا کہ وہ غیر مجاز بحری راستوں پر سفر کرتے ہوئے ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل منتقل کر رہے تھے۔ آئی آر جی سی کے مطابق نشانہ بنائے گئے جہازوں میں آگ بدستور لگی ہوئی تھی۔ ایرانی فورسز نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ جہازوں کو ایسی سمندری گزرگاہ سے گزرنے کی ترغیب دے رہا ہے جہاں بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں، جس کے باعث سمندری واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر امریکہ نے اپنا موجودہ طرزِ عمل جاری رکھا تو ایران کی جوابی کارروائی کا دائرہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں تک پھیل سکتا ہے۔ آئی آر جی سی نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے مغرب میں تین مزید جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا اور صورتِ حال کے بارے میں جلد کوئی نہ کوئی فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔ جنوبی کیرولائنا میں ایک انتخابی جلسے سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں صورتِ حال کسی نہ کسی نتیجے تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کو فوجی اور مالی طور پر شکست دے دی ہے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ تہران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ جنگ ختم کر سکتا ہے، تاہم وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اس کا نتیجہ طویل عرصے تک برقرار رہے۔ دوسری جانب نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج نے امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر ممکنہ نئے حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں۔ رپورٹ میں امریکی حکام اور منصوبہ بندی سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ دونوں ممالک نے فوجی مشقوں میں اضافہ کیا ہے، جن میں عراق کی فضائی حدود میں ممکنہ حملوں کی مشقیں بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران کی جوہری تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ اہداف میں شامل کیا گیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی اس ہفتے اسرائیل میں وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران ممکنہ نئے حملوں پر تبادلہ خیال کیا۔ تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ابھی یہ یقینی نہیں کہ صدر ٹرمپ ان حملوں کی منظوری دیں گے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے ایسے فوجی منصوبوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا جن کے وجود کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ دریں اثنا، ایک سینئر ایرانی سلامتی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی حکام کو قتل کیا گیا یا شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو امریکہ کے سیاسی اثاثے اور ایران کے خلاف نئی جنگ میں شریک ممالک کا بنیادی ڈھانچہ جائز اہداف تصور کیے جا سکتے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق عہدیدار نے کہا کہ تہران واشنگٹن کی سفارتی کوششوں کو قابلِ اعتماد نہیں سمجھتا اور اسے خدشہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل دوبارہ حملہ کر سکتے ہیں۔ ایرانی عہدیدار نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ایتھنز میں دیے گئے بیان پر بھی تنقید کی، جسے تہران نے ایران کے خلاف جنگ کے لیے تاریخی اور تہذیبی جواز پیش کرنے کی کوشش قرار دیا۔ عہدیدار نے مزید الزام لگایا کہ امریکی صدر کی مشرقِ وسطیٰ سے متعلق پالیسی میں اسرائیل کو ترجیح حاصل ہے، جس کے باعث سفارتی حل کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔ ان تازہ بیانات اور فوجی تیاریوں نے خطے میں دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات بڑھا دیے ہیں، جبکہ سمندری سلامتی، علاقائی فوجی اڈوں اور اہم ڈیجیٹل تنصیبات کو لاحق خطرات نے صورتِ حال کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
