
واشنگٹن، 20 اکتوبر 2026 (غفران): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ میں واشنگٹن کی مدد سے انکار کرنے پر نیٹو اتحادیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یورپی ممالک نے امریکا کے ساتھ تعاون نہ کیا تو واشنگٹن یورپ سے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے۔ ریاست کنساس میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا یورپ کی خامیوں اور کمزوریوں کے باوجود اس کے ساتھ کھڑا رہا ہے، تاہم اگر اتحادیوں نے اپنا طرزِ عمل تبدیل نہ کیا تو امریکا کے پاس یورپ چھوڑنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ انہوں نے نیٹو ممالک کی جانب سے امریکی درخواست مسترد کیے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ امریکا نیٹو کے ارکان کے تحفظ کے لیے ہر سال سیکڑوں ارب ڈالر خرچ کرتا ہے، لیکن جب ایران کے خلاف جنگ میں مدد مانگی گئی تو اتحادیوں نے انکار کر دیا۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ امریکا جلد ایران کے خلاف جنگ سے دستبردار ہو سکتا ہے، تاہم اس بات پر زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی صلاحیتوں اور قیادت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے اور ملک کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار نیٹ ورک اور فضائی دفاعی نظام تباہ کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے 229 لڑاکا طیارے رن ویز پر تباہ کیے گئے اور ملک کی اعلیٰ قیادت کے پہلے اور دوسرے درجے کی اہم شخصیات کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ایرانی رہنماؤں نے یقین دہانی مانگی ہے کہ انہیں بھی اپنے پیش روؤں جیسا انجام نہیں بھگتنا پڑے گا۔ اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران ایران سے متعلق پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران ایران میں 75 ہزار مظاہرین ہلاک کیے گئے ہیں۔ انہوں نے یورپی حکومتوں پر اپنی تنقید جاری رکھتے ہوئے ان سے سرحدیں بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ٹرمپ کے ان بیانات سے ایران جنگ اور دفاعی ذمہ داریوں کی تقسیم کے معاملے پر امریکا اور نیٹو اتحادیوں کے درمیان اختلافات نمایاں ہوئے ہیں۔ تاہم ایران کی فوجی تباہی اور مظاہرین کی ہلاکتوں سے متعلق ٹرمپ کے دعوؤں کی فراہم کردہ خبر میں آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔