Monday, October 19

پیوٹن، ٹرمپ اور شی جن پنگ کی آئندہ ماہ چین میں سہ فریقی ملاقات کا امکان: کریملن

Putin, Trump and Xi May Hold Trilateral Meeting in China Next Month: Kremlin

ماسکو، 19 اکتوبر 2026 (غفران): روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ آئندہ ماہ چین میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (ایپیک) سربراہی اجلاس کے موقع پر سہ فریقی ملاقات کر سکتے ہیں۔ کریملن نے پیر کے روز اس امکان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تینوں رہنماؤں کی ممکنہ ملاقات کا معاملہ بات چیت کے دوران زیرِ غور آیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے یہ بیان امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ پیوٹن نے ٹرمپ اور شی جن پنگ کے ساتھ سربراہی ملاقات کی تجویز پیش کی ہے تاکہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ دمتری پیسکوف کے مطابق تینوں سربراہانِ مملکت کی چین میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کا امکان موجود ہے، تاہم ملاقات، اس کے ایجنڈے یا ممکنہ نتائج کے حوالے سے کسی نے بھی تاحال کوئی باضابطہ تجویز پیش نہیں کی اور نہ ہی کوئی معاہدہ طے پایا ہے۔ یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا نے مجوزہ ملاقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ روس، چین اور امریکا کے رہنماؤں کی سہ فریقی ملاقات جنگ کے خاتمے کے بجائے پیوٹن کو اسے جاری رکھنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین، امریکا اور روس کے رہنماؤں کے درمیان براہِ راست سہ فریقی ملاقات جنگ ختم کرنے کی کوششوں کو تیز کرنے میں زیادہ مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب دمتری پیسکوف نے کہا کہ امریکا تنازع کے حل کے لیے اپنی ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور روس ان کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی حتمی امن معاہدے کے لیے یوکرینی قیادت کے ایسے نمائندوں کی شرکت ضروری ہوگی جو معاہدے کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس اور یوکرین کسی ممکنہ امن معاہدے کی شرائط پر بدستور ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان امریکا کی ثالثی میں آخری امن مذاکرات فروری میں ہوئے تھے، جس کے بعد امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔ اگرچہ پیوٹن، ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ممکنہ ملاقات کا معاملہ سامنے آیا ہے، تاہم کریملن نے ابھی تک اس سربراہی اجلاس کے انعقاد کے حوالے سے کسی باضابطہ معاہدے یا حتمی انتظامات کی تصدیق نہیں کی۔