Monday, October 19

پاکستان کا فلسطین کی آزادی کے لیے ناقابلِ تنسیخ ٹائم لائن مقرر کرنے اور اسرائیلی قبضہ ختم کرنے کا مطالبہ

Pakistan Calls for Irrevocable Timeline for Palestinian Independence, End to Israeli Occupation

نیویارک، 17 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): پاکستان نے اسرائیلی قبضے کے فوری اور مستقل خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے حتمی اور ناقابلِ تنسیخ ٹائم لائن مقرر کی جائے، جس کی سرحدیں 1967 سے پہلے کی بنیاد پر ہوں اور مشرقی بیت المقدس اس کا دارالحکومت ہو۔ مشرقِ وسطیٰ سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے کہا کہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور فلسطینی عوام کو حقِ خودارادیت دیے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ انہوں نے دو ریاستی حل کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول مشرقی بیت المقدس، میں اسرائیلی آبادکاری میں توسیع، گھروں کی مسماری، زمینوں پر قبضے، جبری بے دخلی اور آبادکاروں کے تشدد سے امن کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کے مطابق اسرائیلی آبادکاری کی سرگرمیاں فوری طور پر روکنے اور تشدد کے ذمہ دار عناصر کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ عثمان جدون نے مسجد اقصیٰ میں اشتعال انگیز دراندازی کی مذمت کرتے ہوئے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت برقرار رکھنے پر زور دیا۔

غزہ میں انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور بحالی و تعمیرِ نو کے کام فوری شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (یو این آر ڈبلیو اے) کے اہم کردار کو اجاگر کیا اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی یا غزہ اور مغربی کنارے، بشمول مشرقی بیت المقدس، کو تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا۔ پاکستان کے مطابق یہ تمام علاقے ایک متحدہ فلسطینی ریاست کا حصہ ہیں۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کو روکے گئے محصولات جاری کرنے پر بھی زور دیا تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے قابل ہو سکے۔ علاقائی سلامتی کے حوالے سے عثمان جدون نے سعودی عرب اور اس کے شہری و اقتصادی بنیادی ڈھانچے پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری بندش کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کیا۔ یمن کے معاملے پر انہوں نے جامع اور پائیدار امن کے حصول کے لیے مذاکرات بحال کرنے کی غرض سے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی کوششوں کی حمایت کی۔ پاکستان نے ایک بار پھر فلسطینی آزادی کے حصول، غزہ کے عوام کی مشکلات کم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن و استحکام کے لیے عالمی سطح پر مؤثر سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔