
کابل، 16 اکتوبر 2026 (غفران): افغانستان میں طالبان کے دورِ حکومت میں لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی پانچویں سال میں داخل ہوگئی ہے، جبکہ چھٹی جماعت سے آگے تعلیم حاصل کرنے پر پابندیاں تاحال برقرار ہیں۔ اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) نے ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق اپنی سہ ماہی رپورٹ جاری کردی ہے، جس میں یکم جولائی سے 30 ستمبر 2026 تک کے واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تین ماہ کے دوران حجاب سے متعلق معاملات پر خواتین کی گرفتاری یا حراست کے 50 سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ ہرات میں چادر نہ پہننے پر 10 خواتین کو گرفتار کیا گیا، جبکہ ایک 13 سالہ لڑکی کو بھی حراست میں لیا گیا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سہ ماہی کے دوران افغانستان میں 28 افراد، جن میں چھ خواتین بھی شامل تھیں، کو جسمانی سزائیں دی گئیں۔ یو این اے ایم اے کے مطابق طالبان کے ایک ترجمان نے مقررہ حجاب کی پابندی نہ کرنے والی خواتین کو مجرم قرار دیا۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے یہ بھی کہا کہ خواتین کو سرکاری دفاتر میں کام کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغان خواتین کے اقوام متحدہ کے دفاتر میں داخلے پر پابندیاں بھی برقرار ہیں۔ یو این اے ایم اے نے مزید بتایا کہ طالبان کی جانب سے عام معافی کے اعلان کے باوجود سابق افغان حکومت کے عہدیداروں اور سکیورٹی اہلکاروں کی گرفتاریاں اور ہلاکتیں جاری ہیں۔