Thursday, October 15

فیصل قریشی کا پاکستانی ڈراموں پر بھارت میں مبینہ پابندی کے اقدام پر ردعمل

Faisal Qureshi Speaks Out on India's Reported Move to Ban Pakistani Dramas

کراچی، 16 اکتوبر 2026 (نوشین): پاکستان کے معروف اداکار فیصل قریشی نے بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستانی ڈراموں پر پابندی عائد کرنے کی مبینہ کوششوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی ناظرین میں پاکستانی ٹیلی ویژن مواد کی بڑھتی ہوئی مقبولیت بھارتی حکام کے لیے تشویش کا باعث ہو سکتی ہے۔ ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈراموں نے سرحد پار ناظرین کو پاکستان کا ایک ایسا پہلو دکھایا ہے جس سے وہ خود کو قریب محسوس کرتے ہیں، اور انہیں یہ سمجھنے میں مدد دی ہے کہ پاکستانی بھی عام اور تعلیم یافتہ لوگ ہیں، جن کی زندگیوں، جذبات اور تجربات میں بھارتی شہریوں سے زیادہ فرق نہیں۔ اداکار کے مطابق دونوں ممالک کے عوام کے درمیان بڑھتا ہوا ثقافتی تعلق پاکستانی ڈراموں کو بھارت میں محدود کرنے کی کوششوں کی ایک ممکنہ وجہ ہو سکتا ہے۔ فیصل قریشی نے بھارتی ناظرین میں پاکستانی ڈراموں کی مسلسل مقبولیت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ کئی معروف پاکستانی ڈرامے اب بھی سرحد پار خاصی توجہ حاصل کر رہے ہیں، جبکہ حال ہی میں نشر ہونے والے ڈراموں کو بھی بھارتی ناظرین کی جانب سے مثبت ردعمل ملا ہے۔ مبینہ پابندیوں پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض بھارتی ناظرین پاکستانی مواد دیکھنے کے لیے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) کا استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی ڈرامے دیکھنے کے لیے ناظرین کی دلچسپی نے بھارتی حکومت کے فیصلے پر نظرثانی کے حوالے سے دباؤ پیدا کیا ہے۔ فیصل قریشی نے تفریحی صنعت کے وسیع تر کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ڈرامے ثقافتی رابطے کا اہم ذریعہ ہیں اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص پیش کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کے بیان نے ایک بار پھر پاکستانی ٹیلی ویژن ڈراموں کی سرحد پار مقبولیت اور پاکستان و بھارت کے عوام کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں تفریحی مواد کے کردار کو نمایاں کر دیا ہے۔