
اسلام آباد، 16 اکتوبر 2026 (غفران): معروف اسٹریمنگ کمپنی نیٹ فلکس نے یوٹیوب، ٹک ٹاک اور روایتی میڈیا اداروں سے بڑھتے ہوئے مقابلے کے باعث تقریباً ایک ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کمپنی کی مجموعی افرادی قوت کا تقریباً 6 فیصد بنتا ہے۔ یہ 2022 کے بعد کمپنی میں ملازمین کی سب سے بڑی تعداد میں چھانٹی ہوگی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کمپنی کی ایک داخلی ای میل میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر برطرفیاں پروڈکٹ، ٹیکنالوجی، قانونی امور اور انسانی وسائل کے شعبوں میں کی جائیں گی۔ کمپنی کے شریک چیف ایگزیکٹوز گریگ پیٹرز اور ٹیڈ سرینڈوس نے بدھ کو ملازمین کو بھیجے گئے پیغام میں کہا کہ دنیا بھر کے ناظرین کو تفریح فراہم کرنے کے مقصد کے حصول کے لیے افرادی قوت اور وسائل کو ترجیحی بنیادوں پر استعمال کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کا کاروبار مضبوط ہے اور ترقی کر رہا ہے، جبکہ نیٹ فلکس پورے سال کے لیے مقررہ مالی اہداف حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ رواں سال نیٹ فلکس کے حصص کی قیمت میں اب تک تقریباً 25 فیصد کمی آ چکی ہے، تاہم بدھ کو حصص میں 0.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ سال کے اختتام پر کمپنی میں تقریباً 16 ہزار ملازمین کام کر رہے تھے۔ ملازمین کی تازہ برطرفیوں کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب سرمایہ کاروں کو خدشات لاحق ہیں کہ آیا نیٹ فلکس اپنی تیز رفتار ترقی کو برقرار رکھ سکے گی یا نہیں۔ کمپنی نے ماضی میں امریکی میڈیا انڈسٹری کو تبدیل کرتے ہوئے روایتی کیبل ٹیلی ویژن کے کاروبار پر دباؤ بڑھایا تھا، تاہم اب یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے صارفین کی جانب سے پلیٹ فارم پر گزارے جانے والے وقت میں اضافہ بھی اہم مسئلہ بن گیا ہے، کیونکہ یوٹیوب اور ٹک ٹاک مفت صارف ساختہ مواد کے ذریعے بڑی تعداد میں ناظرین کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں اور انہیں مواد کی تیاری کے اخراجات کے حوالے سے مسابقتی برتری حاصل ہے۔ رواں سال وارنر برادرز ڈسکوری کے اسٹریمنگ اور فلمی اثاثے خریدنے کی نیٹ فلکس کی ناکام کوشش نے بھی کمپنی کی حکمت عملی سے متعلق سوالات کو جنم دیا۔ رواں ماہ پیراماؤنٹ نے مبینہ طور پر 110 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت وارنر برادرز کا حصول مکمل کیا، جس کے نتیجے میں یہ ادارہ اسکائی ڈانس کے تحت آگیا۔ ماہرین کے مطابق نیٹ فلکس اب بھی زیادہ تر آمدنی کے لیے صارفین کی سبسکرپشن پر انحصار کرتی ہے اور طویل مدت میں ترقی برقرار رکھنے کے لیے اسے آمدنی کے نئے ذرائع تلاش کرنا ہوں گے۔ ای مارکیٹر کے سینئر تجزیہ کار راس بینز کے مطابق کمپنی ابھی تک آمدنی کا ایسا بڑا متبادل ذریعہ قائم نہیں کر سکی جو اس کے کاروبار کو نمایاں طور پر متنوع بنا سکے۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے نیٹ فلکس اشتہارات پر مبنی سبسکرپشن پیکجز، براہ راست نشریات اور گیمنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ کمپنی نے اس سے قبل 2022 میں دو مرحلوں کے دوران تقریباً 450 ملازمین کو فارغ کیا تھا، جب ایک دہائی سے زائد عرصے میں پہلی مرتبہ اس کے صارفین کی تعداد میں کمی ہوئی تھی۔ حالیہ برطرفیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ تفریحی صنعت میں بڑھتے ہوئے مقابلے کے باعث اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر اخراجات کم کرنے، ناظرین کو برقرار رکھنے اور آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔