
برسلز، 15 اکتوبر 2026 (غفران): یورپی قانون سازوں نے سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور معاہدوں کی پابندی پر زور دیا ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے، معاہدوں کی ذمہ داریاں پوری کرے اور مسئلہ جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ پاکستان کے بیلجیئم، لکسمبرگ اور یورپی یونین میں سفیر رحیم حیات قریشی نے برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران عالمی نظامِ حکمرانی کے مستقبل پر گفتگو کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی استحکام برقرار رکھنے اور بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممالک کے درمیان تعلقات مساوات اور تمام فریقین کے حقوق کے احترام پر مبنی ہونے چاہئیں۔ اقوام متحدہ میں اصلاحات کی تجاویز پر بات کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقوں کے نقطۂ نظر کو شامل کیا جائے تاکہ اصلاحات عالمی برادری کے وسیع تر مفادات کے مطابق ہوں۔
اجلاس کے دوران یورپی پارلیمنٹ کے چیک رکن آندریج دوستال نے سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی، جبکہ جرمن رکن مائیکل فان ڈیر شولن برگ نے معاہدے پر عمل درآمد اور اس کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے عالمی کوششوں پر زور دیا۔ رحیم حیات قریشی نے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ یہ گفتگو پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر جاری کشیدگی کے پس منظر میں ہوئی۔ اپریل 2025 میں بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک حملے کے بعد معاہدے کو عارضی طور پر معطل رکھنے کا اعلان کیا تھا، جسے پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا، جس کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائے سندھ کے آبی نظام کے پانی کی تقسیم کے اصول وضع کیے گئے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعے کا اہم موضوع ہے، جبکہ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ یکطرفہ اقدامات سے اس کی آبی ضروریات اور پانی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔