Thursday, October 15

وزیراعظم شہباز شریف کا قیمتی پتھروں کے پائلٹ منصوبے میں سست پیش رفت پر اظہارِ برہمی

PM Shehbaz Expresses Displeasure Over Slow Progress on Gemstones Pilot Project

اسلام آباد، 14 اکتوبر 2026 (غفران): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قیمتی پتھروں کے پائلٹ منصوبے پر سست پیش رفت اور شعبے کی ترقی کے لیے اقدامات پر عمل درآمد میں تاخیر پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ترجیحی بنیادوں پر مقررہ مدت کے اندر قابلِ عمل منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ قیمتی پتھروں کے شعبے میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قیمتی پتھروں اور زیورات کی صنعت کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس ضمن میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے قیمتی پتھروں کی کان کنی، تراش خراش اور پالش سمیت ان کی قدر میں اضافے کے لیے ایک جامع نظام قائم کرنے پر زور دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ غیر معیاری کان کنی کے طریقوں اور اسمگلنگ کے باعث پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے ملک کے وسیع قدرتی وسائل کا ذکر کرتے ہوئے قیمتی پتھروں اور معدنیات کے ذخائر سے بھرپور استفادہ کرکے برآمدات بڑھانے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے قیمتی پتھروں اور زیورات کے لیے پاکستان کی اپنی عالمی شناخت یعنی ’’برانڈ پاکستان‘‘ متعارف کرانے اور ان کی قدر میں اضافے کے لیے مراکزِ امتیاز کے قیام کا روڈ میپ جلد تیار کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے پائلٹ منصوبوں اور ماڈل قیمتی پتھروں کی کانوں کی ترقی میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرکے انہیں جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم کو قیمتی پتھروں کی تلاش، تراش خراش، پالش، قدر میں اضافے اور برآمدات کی تیاریوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ اسکردو کے علاقے حسین آباد میں مرکزِ امتیاز کے منصوبے کے لیے 4.8 کنال زمین منتقل کی جا چکی ہے، مطلوبہ فنڈز دستیاب ہیں اور تعمیراتی کام جلد شروع کر دیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں بھی منصوبوں کے لیے زمین کی نشاندہی کر لی گئی ہے، جبکہ اسلام آباد میں مستقل مرکز کی تعمیر تک متبادل مقام پر سہولت کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے گا۔ حکام کے مطابق قیمتی پتھروں کے ذخائر والے شناخت شدہ علاقوں کی ارضیاتی نقشہ سازی مکمل کر لی گئی ہے اور گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا میں مزید تلاش اور دریافت کے لیے آٹھ نئے بلاکس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رواں مالی سال کے دوران شعبے کی ترقی کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے سات شہروں میں دس بینکوں کی 80 شاخوں میں برآمدی سہولت ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو قیمتی پتھروں اور زیورات کے مراکزِ امتیاز کے قیام اور شعبے کی ترقی کے لیے جامع لائحہ عمل تیار کرکے آئندہ ہفتے پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزراء جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احسن اقبال، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ اور علی پرویز ملک، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔