
اسلام آباد، 13 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): پاکستان نے شام میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین اور شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اسرائیل سے تمام مقبوضہ شامی علاقوں سے انخلا اور 1974 کے جنگ بندی سے متعلق معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی انسانی اور سیاسی صورتحال پر بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے کہا کہ اسرائیلی اقدامات خطے میں امن اور استحکام کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقبوضہ شامی گولان کی پہاڑیاں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، بالخصوص قرارداد نمبر 338 اور 497 کے تحت شام کا حصہ ہیں۔ سفیر عثمان جدون نے شام میں سیاسی انتقالِ اقتدار، قومی مفاہمت اور معاشی بحالی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ملک کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ پر زور دیا۔ انہوں نے شامی حکومت کی جانب سے جامع سیاسی عمل آگے بڑھانے کی کوششوں اور شامی ڈیموکریٹک فورسز کے ساتھ مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ سویدا اور شام کے دیگر علاقوں میں تنازعات کو مذاکرات اور پُرامن ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شام کی تعمیر نو، معیشت کی بحالی اور عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل عالمی تعاون اور انسانی امداد ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندیوں میں نرمی، سرمایہ کاری میں اضافے اور علاقائی و بین الاقوامی معاشی شراکت داریوں کے فروغ سے شام کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے۔ عثمان جدون نے داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں، بشمول غیر ملکی جنگجوؤں، کے خلاف مسلسل چوکس رہنے اور شام کے سکیورٹی اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ شام میں اسرائیلی فوجی سرگرمیوں پر عالمی تشویش میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ شام کی صورتحال کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے ایک کمیشن نے شامی سرزمین پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ بعض اقدامات، جن میں شہریوں کو حراست میں لینا بھی شامل ہے، جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں۔ اگست میں شمال مغربی شام کے ایک فوجی اڈے پر اسرائیل کے آٹھ فضائی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے جنوب مغربی شام کے مزید علاقوں پر قبضہ کرلیا اور شامی فوج کے بھاری ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کو بھی نشانہ بنایا۔ پاکستان نے ایک بار پھر بین الاقوامی قانون کے احترام، شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ اور جاری بحران کے پُرامن حل پر زور دیا ہے۔