Thursday, October 15

آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق امریکی جواب ناکافی ہے، ایران

Iran Says US Response to Hormuz Reopening Proposal Is Insufficient

دبئی، 12 اکتوبر 2026 (نوشین): ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پیش کی گئی اپنی سات شرائط پر امریکا کے جواب کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اہم معاملات تاحال حل طلب ہیں اور مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ تہران نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک تجویز پیش کی تھی، جس کے تحت شرائط پوری ہونے کی صورت میں سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا اور بحری آمدورفت معمول پر لائی جا سکتی تھی۔ امریکا نے بعد ازاں قطر کے ثالثوں کے ذریعے اس تجویز کا جواب دیا۔ محسن رضائی نے کہا کہ واشنگٹن کو ان نکات کی وضاحت کرنا ہوگی جو تہران کے لیے اب بھی غیر واضح ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز امریکا کے لیے نہیں کھولے گا اور نہ ہی مذاکرات کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی جواب میں ایران کی بعض شرائط تسلیم کی گئی ہیں، تاہم دیگر معاملات اب بھی غیر واضح ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران اب امریکا کو جواب دینے کے مرحلے میں نہیں ہے۔ وائٹ ہاؤس نے خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ ستمبر کے اواخر میں ایران نے کہا تھا کہ اسے خلیج میں جنگ بندی بحال کرنے سے متعلق اپنی تازہ تجویز پر امریکا کا جواب موصول ہوا ہے، جبکہ اس سے چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجویز مسترد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ قطر اور دیگر ثالث تنازع ختم کرنے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز ایک اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔