
اسلام آباد، 11 اکتوبر 2026 (نوشین): ایوانِ صدر کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے چاروں صوبوں میں مختلف ادوار کے دوران گورنر راج یا ایمرجنسی کے اقدامات کیے گئے، بعض مواقع پر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان کشیدگی کے باعث جبکہ بعض اوقات امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ایسے اقدامات کیے گئے۔ تاریخی طور پر خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ میں تین، تین مرتبہ جبکہ بلوچستان میں چار مرتبہ گورنر راج نافذ کیا گیا، جبکہ مشرقی پاکستان میں بھی دو مرتبہ گورنر راج نافذ ہوا۔ ملک کی سیاسی تاریخ کے مختلف ادوار میں ایمرجنسی کے اقدامات بھی کیے جاتے رہے ہیں۔ گورنر راج کے تحت آئینی دفعات کے مطابق محدود مدت کے لیے صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات صدر مملکت استعمال کر سکتے ہیں یا صدر کے نمائندے کی حیثیت سے گورنر کے ذریعے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ آئین کی اجازت کی صورت میں صوبائی اسمبلی کے اختیارات بھی پارلیمنٹ کو منتقل کیے جا سکتے ہیں، جس کے تحت وفاقی مقننہ متعلقہ صوبے کے معاملات پر قانون سازی کر سکتی ہے۔ تاہم، آئین کے تحت کسی صوبائی ہائی کورٹ کے اختیارات صدر مملکت، وفاقی حکومت یا گورنر کو منتقل نہیں کیے جا سکتے۔ خیبر پختونخوا میں حالیہ فیصلے کے اثرات کا انحصار آئینی دائرہ کار کے اندر وفاقی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر ہوگا۔ پاکستان میں ابتدائی اہم آئینی ہنگامی اقدامات میں سے ایک 24 اکتوبر 1954 کو کیا گیا، جب گورنر جنرل ملک غلام محمد نے ملک بھر میں ایمرجنسی کا اعلان کیا۔ اس وقت اس اقدام کا جواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ پاکستان سیاسی بحران سے دوچار ہے اور آئینی نظام مؤثر طریقے سے کام نہیں کر رہا۔ اس کے بعد بھی ملک کی سیاسی تاریخ کے مختلف مراحل میں ایمرجنسی کی آئینی دفعات کا استعمال کیا جاتا رہا، اکثر حکمرانی، آئینی اختیارات اور سکیورٹی سے متعلق تنازعات کے دوران ایسے اقدامات سامنے آئے۔