Friday, October 9

سعودی انسانی حقوق تنظیم کا حوثیوں کی جانب سے بچوں کی بھرتی روکنے کے لیے اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

Saudi Human Rights Group Urges UN Action to End Houthi Recruitment of Children

ریاض، 9 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): سعودی عرب کی نیشنل سوسائٹی فار ہیومن رائٹس نے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے بچوں کی بھرتی اور استحصال روکنے کے لیے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے فیصلہ کن اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے بھرتی کیے گئے کم عمر بچوں کی رہائی اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے پر زور دیا۔ سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق تنظیم نے بچوں کو جنگی کارروائیوں میں استعمال کرنے کے مسلسل واقعات کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس عمل سے بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑتی ہیں، وہ تعلیم اور محفوظ بچپن سے محروم ہو جاتے ہیں اور ان کا مستقبل متاثر ہوتا ہے۔ تنظیم نے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے بچوں کی بھرتی سے متعلق بین الاقوامی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بچوں کی مزید بھرتی روکی جائے، حوثی صفوں میں موجود بچوں کو رہا کرایا جائے، انہیں دوبارہ بھرتی ہونے سے بچایا جائے اور ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنایا جائے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ کے تفتیش کار یمن کے تنازع میں بچوں کو مسلح کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جانے کے واقعات بارہا دستاویزی شکل میں سامنے لا چکے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی 2024 کی تحقیق ’’غزہ کے تنازع سے فائدہ اٹھانا‘‘ میں بتایا گیا کہ حوثیوں نے غزہ کی جنگ کو بچوں کو بھرتی کی سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے استعمال کیا، جن میں اسکولوں اور موسم گرما کے کیمپوں کے ذریعے چلائی جانے والی سرگرمیاں بھی شامل تھیں، جبکہ بعض بچوں کو بعد ازاں یمن کے محاذوں پر بھیجا گیا۔ سام فار رائٹس اینڈ لبرٹیز اور یورو میڈ ہیومن رائٹس مانیٹر کی ایک الگ تحقیق میں 2014 سے 2021 کے دوران کم از کم 10,300 یمنی بچوں کی بھرتی کی نشاندہی کی گئی۔ حوثیوں نے 2022 میں اقوام متحدہ کے ساتھ ایک لائحہ عمل پر دستخط کرکے بچوں کی بھرتی اور استعمال ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم انسانی حقوق کے نگران ادارے اب بھی خلاف ورزیوں کی رپورٹس دے رہے ہیں۔ سعودی تنظیم نے خبردار کیا کہ بچوں کو مسلح تنازعات میں شامل کرنے سے تشدد اور انتہا پسندی کو فروغ ملتا ہے، لڑائی طول پکڑتی ہے اور امن و استحکام کے امکانات متاثر ہوتے ہیں۔ یمن میں 2014 میں حوثیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد سے تنازع جاری ہے، جس کے نتیجے میں 2015 میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں سعودی قیادت میں فوجی مداخلت کی گئی۔ تنظیم نے زور دیا کہ بچوں کی بھرتی روکنے کے ساتھ متاثرہ بچوں کی بحالی اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت کے پروگرام بھی ضروری ہیں، جن میں نفسیاتی و سماجی مدد اور بچوں کو ان کے خاندانوں، اسکولوں اور برادریوں میں واپس لانے کے لیے معاونت شامل ہو۔ تنظیم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خلاف ورزیوں کی محض دستاویز بندی اور مذمت تک محدود رہنے کے بجائے انہیں روکنے اور ذمہ داروں کا احتساب کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ اقوام متحدہ بھی تنازع کے فریقین سے مطالبہ کر چکی ہے کہ وہ اپنی صفوں میں موجود بچوں کو رہا کریں، بھرتی کا عمل ختم کریں، متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد کی رسائی یقینی بنائیں اور بچوں کے خلاف خلاف ورزیوں کی تحقیقات کریں۔ ستمبر میں بچوں اور مسلح تنازعات سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ وینیسا فریزیئر نے سعودی عرب کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے حکومتی عہدیداروں اور دیگر متعلقہ فریقین سے تنازعات سے متاثرہ بچوں کے تحفظ پر بات چیت کی۔ اس دورے میں بین الاقوامی تعاون، انسانی امداد اور تنازعات سے متاثرہ بچوں کے لیے مسلسل معاونت کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔