
اوسلو، 9 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): ناروے کی نوبیل کمیٹی نے جمعہ کو اعلان کیا کہ ناوانیتھم ’’ناوی‘‘ پلّے کو امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے خدمات انجام دینے پر نوبیل امن انعام دیا گیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق ناوی پلّے نے اپنی طویل پیشہ ورانہ زندگی میں ریاستوں اور قومی رہنماؤں کو جواب دہ بنایا، تشدد اور تنازعات کے متاثرین کے لیے امید پیدا کی اور مضبوط اخلاقی اصولوں پر ثابت قدم رہیں۔ کمیٹی نے نسل پرستی کے نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والے نیلسن منڈیلا اور دیگر افراد کے دفاع میں ان کے ابتدائی کردار کے ساتھ ساتھ اپنے دور کی اہم بین الاقوامی عدالتی کارروائیوں میں بطور جج ان کی خدمات کو بھی سراہا۔ ناروے کی نوبیل کمیٹی کے چیئرمین یورگن واٹنے فرائڈنیس نے کہا کہ ناوی پلّے نے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مقدمات چلانے کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کمیٹی نے کہا کہ یہ انعام ایسے وقت میں دیا جا رہا ہے جب بین الاقوامی قانون کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے اور اس کے اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ فرائڈنیس کے مطابق دنیا میں بڑھتی ہوئی جنگوں اور تنازعات کے تناظر میں بین الاقوامی قانون امن اور سلامتی کے لیے محض اضافی سہولت نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ ناوی پلّے اس سے قبل مقبوضہ فلسطینی علاقے سے متعلق اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ رہ چکی ہیں، جس نے گزشتہ سال اپنی رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی ہے۔ اسرائیل نے اس رپورٹ کو ’’شرمناک‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ اس انعام کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے بین الاقوامی انصاف کے اداروں پر بار بار کی جانے والی تنقید بھی دوبارہ توجہ کا مرکز بن سکتی ہے۔ جنوری 2025 میں وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد ٹرمپ نے نوبیل امن انعام حاصل کرنے کی خواہش کھل کر ظاہر کی ہے۔ اس حوالے سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکریٹری جنرل ایگنیس کالامارڈ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں ناوی پلّے کو مذاقاً یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اگر حاضرین کچھ زیادہ تالیاں بجائیں تو شاید وہ یہ انعام ٹرمپ کے ساتھ بھی بانٹ لیں۔