Thursday, October 8

یروشلم میں برطانوی سفارتی موجودگی میں اسرائیل کی بڑی کمی

Israel Drastically Reduces British Diplomatic Presence in Jerusalem

یروشلم، 8 اکتوبر 2026 (غفران): اسرائیل نے جمعرات کو یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کی سرگرمیاں ختم کرتے ہوئے برطانیہ کی سفارتی موجودگی میں نمایاں کمی کردی اور صرف سات برطانوی سفارت کاروں کو محدود دائرہ کار میں کام کرنے کی اجازت دی۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے کہا کہ قونصل جنرل سمیت 20 سفارت کار اپنی ذمہ داریاں ختم کرکے ملک چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اسرائیل اور برطانیہ کی حکومتوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے سے بچنے کے لیے ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا۔ گیڈون سار کے مطابق قونصل خانے کی عمارت برطانوی حکومت کی ملکیت رہے گی، تاہم اب وہاں صرف سات سفارت کاروں پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم محدود سرگرمیاں انجام دے گی۔ برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ یروشلم میں اہم خدمات کی فراہمی جاری رکھے گا اور قونصل خانے کی عمارت کو اب برطانیہ کا مشن، یروشلم کہا جائے گا۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ برطانیہ اسرائیلی حکومت کے اس اقدام کو قانونی طور پر نافذ کرنے کے حق کو تسلیم نہیں کرتا اور آنے والے مہینوں میں اپنی سفارتی موجودگی دوبارہ بڑھانے کے لیے کام کرے گا۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب اسرائیل نے ستمبر میں برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کا حکم دیا تھا، جو مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد پر برطانیہ کی جانب سے مغربی ممالک کی پابندیوں میں شمولیت کے ردعمل میں کیا گیا تھا۔ اسرائیل نے غزہ میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے برطانوی نمائندوں کے خلاف بھی اقدامات کیے، فلسطینی اتھارٹی کی فورسز کے لیے برطانوی تربیت پر پابندی عائد کی اور 12 برطانوی شہریوں، جن میں زیادہ تر ارکان پارلیمنٹ شامل تھے، کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی لگائی۔ گیڈون سار نے کہا کہ یہ تمام اقدامات نافذ کیے جاچکے ہیں۔ یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ تقریباً 200 سال قبل قائم کیا گیا تھا اور فلسطینیوں کے ساتھ برطانیہ کے سیاسی، تجارتی، سکیورٹی اور اقتصادی تعلقات کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتا رہا ہے، جبکہ یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ میں برطانوی شہریوں کو قونصلر خدمات بھی فراہم کرتا ہے۔ برطانیہ سمیت بیشتر ممالک پورے یروشلم پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم نہیں کرتے، جبکہ اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر 1967 میں قبضہ کرکے بعد میں اسے ضم کرلیا تھا۔