
تہران، 6 اکتوبر 2026 (غفران): ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف نئی جنگ چھڑنے کی صورت میں اس کے شعلے پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں اور ان تمام ممالک کو متاثر کر سکتے ہیں جہاں امریکی افواج یا فوجی تنصیبات موجود ہیں۔ ممکنہ فوجی تصادم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے علی عبداللہی نے کہا کہ ایران امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج کا انتظار نہیں کر رہا اور ملک کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کا بھرپور جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ فوجی آپریشن کا فیصلہ کن جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، خواہ کارروائی محدود ہو یا بڑے پیمانے پر کی جائے۔ ایرانی فوجی سربراہ نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اقوام متحدہ کا جوہری نگران ادارہ ایران کے خلاف معاندانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے ایجنسی کو ’’بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا‘‘ قرار دیتے ہوئے ایران کی جوہری تنصیبات سے متعلق اس کے حالیہ بیانات کو بے بنیاد قرار دیا۔ یہ بیان ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ ایرانی حکام متعدد بار خبردار کر چکے ہیں کہ ایران پر کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل سکتے ہیں۔