Monday, October 5

یمن کی کشیدہ صورتحال کے دوران ریاض میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اہم دفاعی مذاکرات

Pakistan, Saudi Arabia and Turkiye Hold Key Defence Talks in Riyadh Amid Yemen Escalation

ریاض، 5 اکتوبر 2026 (کامران راجہ): پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے ریاض میں اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا جس میں خطے کی تازہ سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری سربراہان نے 3+3 فارمیٹ میں شرکت کی۔ پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی۔ ہنگامی اجلاس کمیٹی کے آئندہ باقاعدہ اجلاس سے قبل منعقد کیا گیا جو اکتوبر کے اختتام یا نومبر کے آغاز میں متوقع ہے، جبکہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تازہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اجلاس بلایا گیا۔ اسحاق ڈار کے مطابق 21 اور 22 ستمبر کے دوران سعودی عرب پر 17 ڈرون حملے کیے گئے، جس کے بعد تینوں ممالک نے علاقائی سکیورٹی صورتحال پر مشاورت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا۔ کمیٹی نے خطے کی تازہ صورتحال اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت جاری تعاون کا جائزہ لیا۔ پاکستان کی شرکت علاقائی امن، سکیورٹی اور استحکام کے لیے اس کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ مذاکرات سے قبل گزشتہ ماہ تینوں ممالک کے اعلیٰ عسکری کمانڈروں کا اجلاس بھی ہوا تھا جس میں سعودی عرب کو درپیش خطرات پر تبادلہ خیال اور دفاعی تعاون، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور عسکری رابطہ کاری کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ کمانڈروں نے مکہ مکرمہ، سعودی شہریوں اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی شدید مذمت بھی کی تھی۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں الصفا پیلس میں منعقدہ مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس کے دوران دستخط کیے تھے۔ معاہدے کا مقصد اجتماعی سکیورٹی کو فروغ دینا، دفاعی تعاون مضبوط بنانا اور خطے سمیت عالمی سطح پر امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔ معاہدے کے تحت سیاسی اور دفاعی امور میں رابطہ کاری کے لیے مشترکہ نظام قائم کیا گیا ہے جس کا سیکریٹریٹ ریاض میں قائم اور فعال ہے، جبکہ پاکستان نے معاہدے کے پہلے سیکریٹری جنرل کا تقرر بھی کر دیا ہے۔ پاکستان نے اس نظام کی معاونت کے لیے وزارت خارجہ اور عسکری ادارے سے افسران بھی تعینات کیے ہیں جو سعودی اور ترک حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اسحاق ڈار کے مطابق معاہدے پر عمل درآمد کے عمل میں کم از کم ایک سال لگنے کی توقع ہے، جبکہ اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اگلا باقاعدہ اجلاس اکتوبر کے اختتام یا نومبر کے آغاز میں متوقع ہے۔