Thursday, October 1

قطر کی امریکا، ایران کے درمیان جوہری معاہدے اور آبنائے ہرمز پر اختلافات ختم کرنے کی کوشش

Qatar Seeks to Bridge US-Iran Divide Over Nuclear Deal and Strait of Hormuz

دوحہ، یکم اکتوبر 2026 (کامران راجہ): قطر نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کے تبادلے کی اس کی کوششیں جوہری معاملے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق تعطل ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ دوحہ فریقین کے درمیان مشترکہ بنیاد تلاش کرنے اور ایسے معاہدے کی کوشش کر رہا ہے جو آٹھ ماہ سے جاری تنازع کے مزید اثرات کو روک سکے۔ امریکی اور ایرانی حکام نے قطری ثالثوں کے ساتھ الگ الگ بات چیت کی، تاہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اب تک کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان رپورٹس کو مسترد کردیا کہ واشنگٹن نے ایران کو جوہری پروگرام سے متعلق رعایتوں کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثوں تک رسائی دینے کی پیشکش کی تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے تہران کو کچھ بھی پیش نہیں کیا۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ دباؤ یا دھمکی کے بغیر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ایران نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک امن منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور لڑائی روکنے کے لیے سات روزہ مدت کی تجویز دی گئی تھی، تاہم ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کردیا۔ تنازع کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک، عالمی توانائی کی فراہمی شدید متاثر اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دریں اثنا، امریکا نے توانائی کمپنیوں کو اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو سے 4 کروڑ بیرل تک تیل فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے جبکہ ایران کو ہتھیاروں اور متعلقہ پرزہ جات کے حصول میں مدد دینے کے الزام میں 10 افراد اور اداروں پر پابندیاں بھی عائد کردی گئی ہیں۔