
برسلز، 30 ستمبر 2026 (غفران): روس نے نیٹو کو خبردار کیا ہے کہ اگر مغربی اتحاد نے روسی علاقے کالینن گراڈ کو ملک کے دیگر حصوں سے الگ کرنے کی کوشش کی تو ماسکو جوہری ہتھیار استعمال کرسکتا ہے۔ روسی سفارتی نوٹ، جو نیٹو کو بھیجا گیا اور خبر رساں ادارے رائٹرز نے دیکھا، میں ماسکو نے نیٹو پر ’’خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل‘‘ اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے براہِ راست مسلح تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس میں نیٹو کے رکن ممالک میں فیصلہ سازی کے مراکز کو روسی حملوں کا نشانہ بنائے جانے کا امکان بھی شامل ہے۔ روس نے کہا کہ کالینن گراڈ کو روس کے باقی حصوں سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کی صورت میں وہ اپنے علاقے کے دفاع کے لیے تمام دستیاب فوجی صلاحیتوں، بشمول جوہری ہتھیاروں، کے استعمال کے لیے تیار ہوگا۔ نیٹو نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ وہ ایک دفاعی اتحاد ہے اور اس کی کوئی بھی فوجی مشق یا سرگرمی روسی علاقے کے لیے خطرہ نہیں ہے۔ نیٹو نے روس سے یوکرین پر جاری مکمل حملہ ختم کرنے اور غیر ذمہ دارانہ جوہری بیانات سے گریز کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ جوہری امور کے تجزیہ کار اور سابق روسی سفارت کار نکولائی سوکوف نے کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو فوجی امداد، روس پر نئی پابندیوں، روسی بحری جہازوں کی روک تھام، فوجی مشقوں اور کالینن گراڈ کے قریب انٹیلی جنس پروازوں میں اضافے سے براہِ راست تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ روسی سفارت خانوں نے بھی بعض یورپی ممالک میں نیٹو پر کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ان بیانات کو یورپ کے لیے سفارتی تنبیہ قرار دیا۔ یورپی حکومتیں روس پر تخریب کاری اور آتش زنی سمیت ہائبرڈ جنگ کے الزامات عائد کرتی ہیں، جن کی ماسکو تردید کرتا ہے، جبکہ روس نے بھی نیٹو کے کسی رکن ملک پر ممکنہ حملے کی تیاری کے مغربی دعووں کو مسترد کیا ہے۔